Powered By Blogger

Thursday, December 2, 2010

موجودہ تبلیغی جماعت مولانا الیاس کے طریقہ پر نہیں

موجودہ تبلیغی جماعت مولانا الیاس کے طریقہ پر نہیں

تبلیغی جماعت کی تاسیس کے وقت بعض دیوبندی علماء نے اعتراض کیا تھا کہ عام آدمیوں کی تبلیغی جماعت بنانے سے تبلیغ دین کا کام جہلا کے ہاتھ میں آجائے گا جس کا جواب مولانا الیاس صاحب نے یہ دیا تھا کہ ان لوگوں کو وعظ کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ ان لوگوں کا کام صرف لوگوں کو جمع کرکے کسی عالم کے پاس لانا ہوگا اور اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا زکریا صاحب لکھتے ہیں:

{ وعظ درحقیقت صرف عالموں کا کام ہے جاہلوں کو وعظ کہنا جائز نہیں اس کے لیے عالم ہونا بہت ضروری ہے تاکہ جو کچھ وه کہے وہ شریعت کے موافق ہو، کوئی چيز قرآن و حدیث کے خلاف نہ کہی جا سکے اور تبلیغ جس کے معنی صرف پیغام پہنچادینے کے ہیں، کوئی پیام کسی کے ہاتھ بھیح دینے کے واسطے اس کا عالم ہونا بلکل ضروری نہیں ہے- دراصل وجہ یہی ہے تبلیغی جماعت کے لوگ عامی ہوتے ہیں ان کو واعظ کہنے کی اجازت نہیں ہے }
( تبلیغی جماعتی پر اعتراضات اور انکے جوابات از مولانا زکریا صاحب، ص:48)
لیکن اس کے برخلاف اگر موجودہ تبلیغی جماعت کو دیکھا جائے تو جو بھی اس جماعت میں میں آٹھ دس سال گذار چکا ہو وہ اپنے آپ کو علّامہ سمجھنے لگتا ہے اور مجمع اکھٹا کرکے اس مجمع سے گھنٹہ بھر خطاب کرتا ہے البتہ جب انہیں کہا جائے کہ اپنی تقریر شروع کرنے سے قبل حمد وثناء کیا کرو یہ نبی پاک ۖ کی سنت ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں یہ وعظ کےلیے اور علماء کے لیے ہے اور ہم وعظ نہیں کررہے اور چونکہ ان جماعتوں کے ساتھ کوئی عالم بھی نہیں ہوتا اسلیے امیر جماعت یا مقرر صاحب جو کچھ بھی الٹا سیدھا بیان کرتے ہیں سننے والے اسی کو دین کی بات سمجھ کر اس پر ایمان لے آتے ہیں، دراصل تبلیغی جماعت کی بنیاد کسی ٹھوس اصول پر رکھی ہی نہیں گئی اس لیے یہ ابتداء سے ہی تغیر کا شکار ہے جس کا اعتراف خود زکریا صاحب نے بھی کیا ہے لکھتے ہیں

{ موجودہ تبلیغ چونکہ حضرت دہلوی کے طرز پر نہیں رہی اس لیے اب یہ ضلالت و گمراہی ہے}
( تبلیغی جماعتی پر اعتراضات اور انکے جوابات از مولانا زکریا صاحب، ص:192)
اس اعتراض کو نقل کرکے زکریا صاحب نے اسکی تردید نہیں کی بلکہ تبلیغی جماعت میں پیدا ہونے والے اس تغیر کو تسلیم کرتے ہوئے اسکی متعدد دلیلوں سے تاویل کرنے کی کوشش کی جاتي ہے مگر موجودہ دور میں ان تاویلوں کی مدد سے اس جماعت کی افادیت اور ضرورت کو ہرگز ثابت نہیں کیا جاسکتا کیونکہ تبلیغی جماعت اپنے غلط عقائد و نظریات کے باعث اب اس کام کی اہل نہیں ہے کیونکہ جس دین کی تبلیغ یہ جماعت کسی علاقہ میں کرے گی وہاں دین اسلام نہیں بلکہ دین تصوف پھیلے گا نیز اس جماعت کے لوگ اب وعظ اور تقریر کے بھی عادی ہوچکے ہیں جو مزید سونے پہ سہاگہ ہے اس طرح کسی کے عقائد کو بگاڑنے میں جو کسر تبلیغی جماعت سے رہ جاتی ہے وہ ان خود ساختہ واعظوں سے پوری ہوجاتی ہے بلکہ اب توتبلیغی جماعت کے یہ لوگ واعظ سے بھی آگے بڑھ کر مفتی تک بن چکے ہیں

ا تبلیغی جماعت جس کو بانی جماعت کی جانب سے وعظ کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی آج نہ صرف تبلیغی نصاب سے ہٹ کر وعظ کرتی ہے بلکہ اس جماعت کےلوگ اپنے تئیں مفتی بھی بن چکے ہیں جو لوگوں پر خارج از اسلام اور کفر کے فتوی جاری کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں اور تبليغي جماعت كو آخري سفينه نجات تصور كرتے ہیں
ہماری دعا ہے کہ اللہ ان کو قرآن و حدیث کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


Wednesday, December 1, 2010

تہذیبی ٹکراو....مغرب کا انجام

تہذیبی ٹکراو....مغرب کا انجام


  تہذیب کا وجودقوت ،معیشت اور ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن نہیںہے۔قرآنِ حکیم نے بصراحت یہ وضاحت کی ہے کہ جن تہذیبوں کو ہلاک کیاگیا انہوں نے علاقوں اور ملکوں کو فتح کیا ،ان کو تعمیر کیا اور اس کے بعد پھر فسق و فجور اور سرکشی اختیار کی ۔علّامہ اقبال نے اس کو بڑی خوبصورتی سے نظم کیا ہے
 اگر تہذیبوں کی موت وحیات کی نشو و نما اور زوال و انحطاط وہی ہے جس کا تذکرہ ہمیں قرآنِ حکیم میں ملتا ہے (اور یقینا وہی ہے) اور جس کی طرف حکیم الامت علّامہ اقبالؒ نے اپنے منظوم کلام میں یوں اشارہ کیا ہے کہ:
جہاں تک مغرب کی اندرونی بربادی کا تعلق ہے جس کو وہ ملمع کر کے دنیا کے ظاہربینوں کے سامنے پیش کرتا رہتا ہے ،حالانکہ اس بربادی کا رونا مغرب کے اہل دانش و فلسفہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے رو رہے ہیں وہ مغرب کے المناک اور درد ناک مستقبل کے موضوع کو لے کرپریشانی اور سراسیمگی کی حالت میںمستقل لکھ رہے ہیں ،یہ تہذیب پانچ صدیوں سے اتنی خونخوار اور انسان دشمن بن چکی ہے کہ کسی کو ہیروشیما بناتی ہے ،کسی کو ناگاساکی بناتی ہے ، کسی کو فالوجہ، افغان و عراق کے ذکر خیر سے تو اللہ ہی حافظ ہے۔
اس امر کی حقیقت تو تب ظاہر ہوگی جب کوئی صلاح الدین ایوبی ،کوئی ٹیپوسلطان ،کوئی سلطان محمد اور کوئی مہدی سوڈانی سامنے آئے گا ۔اس وقت مغرب کے مقابلہ میں ایک چھوٹی سی قوت میدان میں موجود ہے ،جس کے پاس قوت وطاقت کے معروف وسائل وذرائع میں سے کوئی ذریعہ یا وسیلہ نہیں ہے ،لیکن اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مغربی تہذیب کو زمین بوس کرنے کےلئے ایک نحیف و ناتواں لیکن منظم و متحد طاقت و قوت بھی کافی ہے اور اگر کوئی قوی مد مقابل آجائے تو یہ دھڑام سے گرے گی ۔
جہاں تک اسلامی تہذیب و ثقافت کی اندرونی حالت کا تعلق ہے تو اس کا مقابلہ اور موازنہ اگر مغربی تہذیب و ثقافت کی حالت سے کیا جائے تو اسلامی تہذیب کی حالت بہت اعلیٰ اور عمدہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے نظیر و بے مثال بھی ہے ۔
ہمارے آج کے بعض دانشور حضرات خوف زدہ ہیں ، وہ ان قوتوں کا نام لینا گویا اپنے آپ کوموت کی دہلیز پر پہنچانے کے برابر تصور کرتے ہیں ،بعض دوسرے مایوسی کے دلدل میں غوطہ زن ہیں لیکن قرآن حکیم کی روشنی میں امید کی یہ کرن دور دور سے عیاں ہوکر یہ نوید سنا رہی ہے کہاہل مغرب اور ان کی مادی قوت ، اسلحہ ، ترقیات ، قوت ومعیشت اور ابلاغی گرفت جو ہرعام و خاص کے بیڈروم تک پہنچ رکھتی ہے ،ان سب کے مقابلے میںایک خفیہ قوت ہے جو ظاہری نگاہوں سے اوجھل ہے خصوصا ان دانشوروں اور عام لوگوں کی نظروں سے ،جو ہر برائی اور اچھائی کو مغربی دوربین سے دیکھتے ہیں ،لیکن اگر ایمانی دوربین اور فراستِ مومن کی دُوربین سے دیکھا جائے تو ان سب مادی ،معاشی،اور ابلاغی قوتوں کا مقابلہ اسلامی تہذیب ہی کررہی ہے اور اس کی چمک دمک کا ظہور ہونے ہی والا ہے ۔ لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون ۔
ہمارے چارہ گر ، اور بعض نادان اور بد نیت ، مسلمانوں کو اس تہذیبی جنگ میں یہ حلبتاتے ہیںکہ اسلامی تہذیب و ثقافت میں اصلاح کے نام سے کوئی ایسی کاٹ چھانٹ کرو کہ اسے جدید دور کے روشن خیال اور اعتدال پسند مسلما ن بھی آسانی کے ساتھ قبول کرلیں اور رجعت پسند اور بنیاد پرستوں کےلئے بھی کوئی اعتراض کرنے کا موقعہ ہاتھ نہ آئے اور ہمارا دشمن بھی مطمئن ہو جائے۔حالانکہ ہم جو توقعات رکھتے ہیںکہ ایسا کرنے سے اسلام دشمن مطمئن ہوجائیںگے ،تو یہ توقع ایک سراب ہے ،بلکہ یہ اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے ،یہ توقع پوری انسانی تاریخ سے حاصل ہونے والے سبق کے خلاف اور ضد ہے ، مغرب مسلمانوں کی کسی تشریح اور تاویل سے مطمئن نہیں ہوگا ،خود مغربی میڈیا اور ذرائع اطلاعات اور حکومتی حلقوں اور اداروں کے اعتراضات کے باوجود کہ بش اور بلیرنے خالص جھوٹ بول کر نہتے افغانستان اور بے قصور عراق پر حملہ کیا ہے ،مگر اس کے باوجود وہ اپنی جارحیت سے بازنہیں آئے بلکہ تباہ کاری کے ہتھیاروںکے الزام کے بعد انہوں نے جمہوریت کے نام سے اپنی جارحیت اور بربریت کو آگے بڑھایا ۔
مغربی تہذیب کے علمبرداروں اور اسلام کے دشمنوں نے اپنے مقاصد کےلئے اپنے منظورِ نظر لوگوں اور دوستوںکے قتل تک کا ارتکاب کرنے میں ذرہ برابر تامل سے کام نہیں لیا ،جنرل ضیاءالحق اور رفیق حریری کو انہوں نے قتل کرایا ۔جن ملکوں میں انہیں کام کرنا ہوتا ہے وہاں اگر ان کے مقاصد اور اہداف ٹھنڈے پڑجاتے ہیں تو وہ وہاں کسی بڑی شخصیت کے قتل کرنے میں اپنے مقاصد کا حصول تصور کرتے ہیں ۔اس وقت پاکستان کی ایٹمی قوت ان ظالموں کی نگاہوں میں ہے وہ وہاںفرقہ واریت کے ذریعہ بدامنی پھیلا کر ایک تو دہشت گردی کو ثابت کرنا چاہتے ہیں ،دوسریہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ ایٹم بم ان لوگوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے ۔
ا لغرض مغرب مسلمانوں کی کسی لچک اور کسی تشریحِ اسلام سے مطمئن ہونے کے لئے تیار نہیں ہے ،اور نہ ہی اس کے لئے وہ کبھی تیار ہوگاکہ اس کے (مغرب)ہوتے ہوئے اسلام کا عدل و انصاف دنیا میں قائم ہو ،چونکہ قرآنِ حکیم میں اس بات کی طرف بہت ہی عمدہ طریقہ سے اشارہ کیا گیا ہے کہ یہود و انصاریٰ تم سے کبھی راضی نہیں ہوں گے الا یہ کہ تم ان کے تابع ہوجا ۔قرآنی نقطئہ نظر سے شیطانی تہذیب و یلغاراور اس کی شر انگیزیوں سے محفوظ ہونے یا رہنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ عالمی قوتوں کے مقابلہ میں عدل و انصاف پر مبنی قوت کو قائم کیاجائے جس کی پکڑ ہر اس ظلم و طغیان پر ہو جو دنیا میں انسانیت اور انسانی اقدار کے لئے مضر اور پر خطر ہو ۔
 جو دانشور حضرات نورِ رب سے کائنات کی ہر شے کو دیکھتے ہیں ان کا ایمان ہے کہ مغرب کی شیطانی تہذیب کا زوال مقدر ہے وہ روما سے اٹھی ،پھر فرانس میں پناہ لے لی ،پھر برطانیہ کے جزیرے میںجا بسی،پھر یورپ سے روس کی طرف آئی اور اب اس کی رہائش اور آماجگاہ امریکا میں ہے اور امریکانے وہ عمل یاکرتوت شروع کر دیے ہے جو نوح علیہ السلام سے ادھر تمام شیطانی تہذیبوں کی ہلاکت وبربادی کا سبب ہوتا رہا ہے ،یعنی مادی ترقی کے نشہ میں اللہ کی زمین کو فتنہ و فسادسے بھر دینا اور جنگی قوت کا بے دریغ استعمال ،ترقیات کے بعد خدا کی مخلوق میں فسق وفجور پھیلانا اور آخر میں ظلم و عدوان کی حدیں بھی پامال کرنا اورکتنی ہی تہذیبوں کو ہم نے نوح کے بعد تباہ و برباد کیا کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی بدکاریوں سے اچھی طرح باخبر ہے۔(۷۱ ۔۱۷)
اس بات سے شاید ہی کوئی ذی حس اور عقل و خرد کا مالک انکار کرے کہ تاریخِ عالم میںصرف ایک ہی تہذیب ہے جس نے دنیاکی تمام تہذیبوں پر خوشگواراثر چھوڑا ہے جس میں پوری انسانیت نے امن وسکون اور راحت کا سانس لیا اور وہ اسلام کی آفاقی اور روحانی تہذیب ہے آج اگر ہم حقیقت کے اصولوں پر مغربی تہذیب کو پرکھنا چاہیں گے تو ہم مغربی تہذیب کو اندر سے کھوکھلی پائیں گے جس سے ایک معمولی ربانی جھٹکے کی ضرورت ہے ۔تہذیب و تمدن کے معاملے میں ہمارے علماءاور دانشور حضرات نہایت ہی سطحی امور کوزیرِ بحث لاتے ہیں مثلا داڑھی ،مونچھ ،لباس کی تراش وخراش وغیرہ اور جن چیزوں کی وجہ سے ایک تہذیب دوسری تہذیبوں پر اثرانداز ہوتی ہے یا جن پر وہ غلبہ پا کر دوسری تہذیبوں کو اپنا غلام اور باندھی بناتی ہے اس سے امت کی اکثریت بے خبر و لاپرواہ ہے لیکن اس حقیقت سے بھی کوئی مفر نہیں ہے کہ اسلام اور اسلامی تہذیب کے غلبہ کے آثار دن بدن روزِ روشن کی طرح عیاں ہورہے ہیں ،بقولِ مولانا مودودیؒ کے کہ سو شلزم کو ماسکو میں اور سرمایہ داری کو واشنگٹن میں پناہ نہ ملے گی۔سوشلزم تو ماسکوسے ختم ہوگیا اور سرمایہ داری کا قبرستان ہموار ہورہا ہے ،میں اس میںذر ااضافہ کرتا ہو کہ روما ،فرانس ، برطانیہ، ماسکو اور واشنگٹن میں پناہ لینے والی مغربی تہذیب کو شاید اب زمین کے کسی اور مرکز میں پناہ نہ ملے۔یہ تہذیب اب امریکہ میں خودکشی کرے گی کیونکہ اس نے دنیا میں شر وفساد کی تمام حدیں پھلانگ دی



ہیں ۔




و اس بات کا برملا اظہار کیا جاسکتا ہے کہ مغرب کی شیطانی تہذیب چار یا پانچ سو سال سے تن تنہا اس وسیع وعریض کائنات پر ناچ رہی ہے ا ور دنیا کو اپنے اشارہ پر جس رُخ پر ڈالنا چاہتی ہے اس رُخ پر اس کو بلا خوفِ تردید ڈال دیتی ہے کیونکہ اس کے گرنے کے بظاہر آثار دور دور تک سجھائی نہیں دے رہے ہیں اور نہ ہی کوئی بیرونی خطرہ،کوئی قوت(واعدولھم ) اور کوئی ترقی (اعلیٰ معیشت)اس کے خلاف میدان میں موجود نہیں ہے ۔

فلسطین لہولہان....... دنیائے اسلام ذمہ داریاں نبھائے

فلسطین لہولہان....... دنیائے اسلام ذمہ داریاں نبھائے
!
عبدالرحمن السدیس
امام و خطیب مسجد الحرام مکہ مکرمہ

مترجم : معراج الدین ندوی
حمد و ثنا کے بعدمسلمانو! سختیوں اور آسانیوں اور تنگ دستیوں ہر حال میں خدا خوفی کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور صبح و شام تقویٰ ہی کی ڈھال سے آزمائشوں،فتنوں اور بدحالیوں کو ٹالا جاسکتا ہے اور اسی کے ذریعے سے ان عظیم الشان نعمتوں اور جنتوں کو حاصل کیاجاسکتا ہے جن کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے۔
مسلمانو! امت جو آج بڑے بڑے مسائل کا شکار ہے اور ہر طرف آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور پورے عالم میں سلگتے بھڑکتے مسائل کا ایک طوفان برپا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر ہم اس امت کی تاریخ کا ایک بار پھر بغور مطالعہ کریں اور قانون قدرت کی روشنی میں اس امت کے مستقبل کی فکر کریں اور اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہر ایک سچے دل سے اپنے معاملات کا جائزہ لیتے ہوئے اپنا محاسبہ کرے اور پھر اس سے پہلے کہ تجددپسندی اورروشن خیالی کا ایساسیلاب اس امت کو بہا لے جائے اور نیست و نابود کردے ہمیں اپنے اسلام کے مجد و شرف اور اپنی شاندار تہذیب و تمدن کو لوٹ آنے کے لیے کمر بستہ ہونا چاہئے۔ میں مسلمانوں کو اس امن کے گھر، مسجد الحرام ، سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے جانا چاہوں گا۔ وہ مسجد اقصٰی جو خاک اور خون میں لت پت ہے ، جو ہلا دینے والے مصائب سے گزر رہی ہے، جس کو یہودیوں کی ان آخری چیرہ دستیوں نے بے حال کرکے رکھ دیا ، جس پر کوئی بھی غیرت مند مسلمان خاموش نہیں رہ سکتا اور جس پر کسی بھی طرح چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔ (وللہ الامر من قبل و من بعد) ان دونوں مسجدوں کے درمیان شرعی اور تاریخی ربط اور تعلق کو بخوبی معلوم کیاجاسکتا ہے۔
ترجمہ: ''پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے، حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا''تاریخی اعتبار سے یہی ایک مسئلہ ہے جس سے ہمارے شرعی ثوابت ، تاریخی حقوق اور ہمارے تہذیب و تمدن کے بڑے کارنامے متعلق ہیں۔ اور یہی وہ موضوع ہے جس کے سبب عالمی سطح پر دشمنیوں اور عداوتوں نے جنم لیا ہے اور جس کی بنا پر پورا عالم دو حصوں میں تقسیم ہوا ہے اور اس نے اصطلاحات کی جنگ کو جنم دیاہے اور اس میں کھوکھلے نعروں اور غیر موثر قراردادوں کا پتا چلا ہے۔ عالم کفر کی طرف سے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں کہ فلسطین اور القدس کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا جائے، اس کی اسلامی حیثیت کو ختم کر کے اس کو محض ایک محدود قومی مسئلہ بنادیا جائے، اس مذموم مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے دوغلی پالیسی اور دھوکے اور فریب کے سارے ہتھکنڈے استعمال کیے بلکہ یہاں تک کہ اس سلسلہ میں ہمارے ہی برائے نام مسلمانوں کو استعمال کیاگیا، ان کی یہ معاندانہ اور شاطرانہ پالیسی اس حد تک موثر بھی واقع ہوئی ہے کہ ہمارے بعض شکست خوردہ مسلمان عناصر یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ یہ ایک پیچیدہ تاریخی مسئلہ ہے جو ہمارے بس سے باہر ہے۔ کیا وہ اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ ہم ایک ایسی امت ہیں جس کے اپنے شرعی مصادر و منابع ، بنیادی عقائداور تاریخی اور تہذیبی اقدار ہیں۔
بھائیو!قرآن و سنت کو ذرا کھول کردیکھیں، اپنے عقیدے کے اصول کی طرف ذرا متوجہ ہوں، کیاہماری تاریخ نے اس بات کو دوٹوک الفاظ مں بیان نہیں کردیا کہ یہود کے ساتھ ہماری جنگ عقیدے کی جنگ ہے، دینی تشخص اور بقائ اور فنا کی جنگ ہے؟کیا ہم قرآن پاک کی اس آیت کریمہ کو بھول گئے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
''تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاو گے''اور فرمایا:''یہودی اور نصرانی تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو''۔تاریخ اٹھا کر دیکھیں تم پر یہ بات عیاں ہوجائے گی کہ کل والے یہود آج کے یہود کے بڑے برے سلف اور آج کے یہود دنیا کے بدترین انسان ہیں، انہوں نے کس قدر نعمتوں کو جھٹلایا؟ اللہ تعالی کے کتنے احکامات میں تحریف کی؟ یہ وہی تو ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بچھڑے کی عبادت کی تھی، انبیائ کی تکذیب کے مرتکب ہوئے،پیغمبروں کو قتل کیا، درحقیقت یہی لوگ اسلامی دعوت کے شدید ترین دشمن اور یہی انسانی تاریخ کی برترین مخلوق ہیں۔
قرآن پاک کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں " جن پر خدا نے لعنت کی ، جن پر اس کاغضب ٹوٹا، جن کی شکلیں بگاڑ دی گئیں، جنہوں نے طاغوت کی بندگی اختیار کی ان کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ سوائ السبیل سے بہت دور بھٹکے ہوئے ہیں ، یہ وہ یہود ہیں جو دغابازی، فریب، کمینہ پن ، عناد، ظلم اور جبرکا منبع اور شرو فساد کی جڑ ہیں۔
''اور وہ زمین میں فساد برپا کرنے کے لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں، او راللہ مفسدین کو پسند نہیں کرتا''،کمینگی اور گمراہی میں وہ یہاں تک پہنچے کہ مقام الوہیت اور ربوبیت کو بھی چیلنج کر بیٹھے اور اللہ تعالیٰ کے استہزائ سے بھی باز نہیں آئے۔
'' اللہ نے ان لوگوں کا قول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں''۔'' اور یہود کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، سنو باندھے گئے ان کے ہاتھ اور لعنت کردی گئی ان پر''اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات ان کے ان بیہودہ اقوال اور حرکات سے بالا و برتر اور پاک اور مبرا ہے۔ یہود وہ بدبخت قوم ہے جنہوں نے انبیا علیہم السلام کو مورد الزام ٹھہرایا اور ان پاکیزہ ہستیوں کی طرف گھٹیا باتیں اور جرائم منسوب کیے۔ انہوں نے حضرت موسی
و ستایا، حضرت عیسیکا انکار کیا، یحییاور زکریا ?کو قتل کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لیے بارہا سازشیں کیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا اور میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ ان بد حیثیت یہودیوں نے آپ کو زہربھی دیا۔قرآن پاک نے ان کی ان گھناونی حرکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
''پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا ، تو تم نے ان کے مقابلے میں سرکشی ہی کی، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کرڈالا''۔
امت کے سپوتو !آج تمہارا مقابلہ تمہارے ان ابدی اور دائمی دشمنوں سے ہے، جو کل بھی تمہارے دشمن تھے آج بھی دشمن ہیں اور آئندہ بھی دشمن ہی ہوں گے، یہ وہی بنو قریظہ بنو نضیر اور بنو قینقاع کی ملعون اولاد اور نسل ہی تو ہے۔اس وقت اس نافرمان اور مغضوب و مردود قوم کا فساد اور شر تمام حدود سے تجاوز کرگیا۔ کیا اب بھی امت مسملہ اس ملعون قوم کی حقیقت کونہیں سمجھ سکی؟حالت یہ ہے کہ ان کی طرف سے مسلط کردہ جنگ روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، اسلامی امت کو ہڑپ کرنے کی ان کی طمع اور حرص میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، وہ آئے دن مسلمانوں پر چڑھائی کرتے ہیں، ان کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کرتے ہیں اور زور اور قوت کی منطق کے علاوہ اور کسی چیز کو نہ جانتے ہیں اورنہ مانتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب امت مسلمہ نے ان کے ساتھ مصالحت کی کوشش کی تو انہوں نے ہمیشہ پہلو تہی کی اور یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں اس لیے کہ وہ امت کو ختم کرنے، ان کی زمینو ں پر ناجائز قبضہ کرنے، ان کو ہجرت پر مجبور کرنے، ان کی معیشت کو اپنی گرفت میں لینے، ان کی عزت کو پامال کرنے اور بالآخراس سے قیادت اور سیادت کا منصب چھیننے سے کم کسی اور چیز پر راضی ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
امت کو جاننا چاہیے کہ یہود ایک ایسی قوم ہے جس کی پوری تاریخ شرمناک سیاہ کاریوں سے عبارت ہے اور یہ اپنے مزموم مقاصد کے حصول تک ہم سے دشمنی کرتے رہیں گے۔ ان کے بنیادی مقاصد میں سے یہ ہے کہ قرآن اور توحید کے علم برداروں کی بستیوں کو ختم کرکے ان کی جگہ '' اسرائیل کبریٰ'' کو قائم کریں،مسجد اقصٰی کو مسمار کر کے مجوزہ ہیکل کی تعمیر کی جائے، حقیقت یہ ہے کہ ایسی قوم کے ساتھ امن ومان کے حوالہ سے بات چیت اور مذاکرات کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
ان دنوں غزہ (فلسطین) میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسرائیلی درندے جس انسانیت سوز مظالم کا ارتکاب کر رہے ہیں، اس کو تاریخ کبھی نہیں بھول سکتی بلکہ یہ ظالم اپنی سیاہ تاریخ کو مزید سیاہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ایک طرف بم،ٹینک اور گھروں کو اجاڑنے والے بلڈوزر نظر آتی ہیں اور دوسری جانب انسانی کھوپڑیاں اور لاشیں ہیں، محاصرے اور مظلوم لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کے واقعات ، قتل، بربادی اور تباہی کے مناطر ہیں تمام انسانی روایات کو پامال کیا گیا، عالمی صہیونزم کی آڑ میں ریاستی دہشت گردی برپا ہے، ہمارے کتنے جوان تہ تیغ ہوئے، کتنے بوڑھوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اور کتنی بہنوں نے اس سرزمین کو اپنے پاکیزہ خون سے سیراب کیا، مساجد شہید کی گئیں اور کتنے گھروں کو جلایا گیا، کتنی ماوں اور بہنوں کی عصمتیں لٹ گئیں اور کتنے بچے یتیم ہوئے، تاریخ کے حساب دان اس کا جواب دینے سے قاصر ہیں ہرطرف خوفناک اور دل دہلا دینیوالے مناظر ہیں۔
آخر کب تک ذلت اور پستی، ہزیمت اور خود سپردگی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا؟
کیا ابھی تک وہ وقت نہیں آیا کہ اس ذلت آمیز سلسلہ کو ختم کیا جائے؟اور کمزوری اور بے بسی کی اس سیاہ رات کو رخصت کیاجائے؟تو کیااب بھی ہماری امت خواب غفلت سے بیدار ہونے کے لیے تیا رنہیں ہے؟میں اسلامی امت کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں اور ارض مقدس فلسطین اور اقصٰی کی تباہی سے پہلے اس کے بچاو کی تدبیر کریں۔
یاد رکھو! وہ عناصر جنہوں نے یہ تباہ کن عصری جنگ چھیڑی ہے اور جو قوتیں اس کی پشت پناہی کررہی ہیں وہ کسی بھی طرح خدائے جبار جل جلا لہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گی، نہ وہ مظلوم اقوام کے غیض و غضب سے نجات حاصل کرسکیں گی اورتاریخ کے قہر و غضب سے ان کو کوئی نہیں بچا سکے گا۔
یہ ایک ایسا المیہ ہے جس کو بیان کرنے سے زبان عاجز ہے اور انسانی دل جس کی تاب نہیں لا سکتا ،لغت ایسے الفاظ پیش کرنے سے قاصر ہے جن کے ذریعہ سے اس ظلم ، وحشت اور دندگی کو بیان کیا جاسکے، اس ظلم و درندگی کے سامنے دنیا کے سارے پیمانے ہیچ ہیں۔
اے پروردگار!ہم تیری رحمت اور فضل کے امیدوار ہیں، ہماری حفاظت فرما۔
آئے دن معصوم انسانوں کا خون اور مسجد اقصیٰ سمیت مقدس مقامات کی بے حرمتی ایک ایسی صوت حال ہے جس پر ہر آنکھ خون کے آنسو روتی ہے۔
مسلمانان عالم کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس مسئلے پر پچاس سال سے زیادہ عرصہ بیت گیا، اور ہروز وہاں کے مظلوم مسلمانوں پر نت نئے مظالم توڑے جا رہے ہیں،کہاں گئے وہ مسلمان جو اپنے بھائیوں کی مدد کیا کرتے تھے؟کیا آج ان میں کوئی حضرت خالد بن ولید ?اور صلاح الدین ایوبی ?کے وارث باقی نہیں رہے؟افسوس صد افسوس ہماری حالت پر ہمیں کیا ہوگیا ہے؟ہمارے مقدس مقامات ہمیں پکار رہے ہیں، ہمارا فلسطین، ہمارا اقصٰی، ہمیں آواز دے رہے ہیں، قبلہ اول سے یہ صدا آر ہی ہے کہ ساری مسجدیں محفوظ ہیں اور میری یہ عزت ہو رہی ہے، اور ہم چین اور سکون سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور ستم ظریفی یہ ہیکہ سب کچھ پوری دنیا کے سامنے دن کی روشنی میں ہور ہا ہے آج مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
میں پوچھتا ہوں کہ کہاں گئے یہ عالمی ادارے؟ کہاں ہے وہ اقوام متحدہ؟کیا وہ بیواو ں کی فریادیں، یتیم بچوں کی چیخیں اور مظلوم خواتین کی آہیں نہیں سن رہے؟کیا اس سرزمین پر یہودیوں کا ناجائز قبضہ اور انسانی حقوق کی پامالی ان کو نظر نہیں آرہی؟کیا انسانی حقوق کے دعویدار یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہے؟عالمی قوانین کی دھجیاں اڑانے والے غنڈوں اور درندوں کے ساتھ سیاسی بائیکاٹ کیوں نہیں کیاجاتا؟اور ان پر معاشی پابندیاں کیوں نہیں لگائی جاتی؟
پس اے دنیا کے لیڈرو!فیصلے کرنے والو! اہل نظر انسانو!اور دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کرنے والو!فلسطین میں ہونے والے جرائم اور وہاں پر مظلوم مسلمانوں کے قتل عام کو تم کیا نام دیتے ہو؟ افسوس کہ ان لوگوں کو دہشت گرد قرار دیاجار ہا ہے جو اپنے مقدس مقامات کی حفاظت اور ظلم و وحشت کے خلا ف آوازاٹھاتے ہیں؟
ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جوش، جذبوں اور ولولوں کے ساتھ، حکمت، عقل ، تدبیر اور ہوش سے کام لیں اور بھرپور منصوبہ بندی کے ساتھ یہودی سازشوں کا مقابلہ کریں۔
جان لو! کہ تمام مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ فلسطین اور دیگر محاذوں پر اپنے مجبور مسلمان بھائیوں کی مالی ، جسمانی اور اخلاقی مدد کے لیے تیار ہوجائیں۔ انفاق فی سبیل اللہ کے جذبے کو تازہ کریں۔
عزیزان محترم!
اس سلسلہ میں مسلمانان عالم کی مالی قربانی ایک نیک شگون ہے، پوری دنیا کے مسلمان جو ہر موڑ اور ہر محاذ پر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ نظر آتی ہے کی قربانیاں امید کی ایک نئی کرن ہے۔مسئلہ فلسطین کی تائیدو حمایت ہمیشہ سے ہماری خارجہ پالیسی کا جزو لاینفک رہا ہے۔ میں اس موقعہ پر تمام مسلمانوں کو خبردار کرتا ہوں کہ ہمیں متحد ہوکر اس مشن کو جاری رکھنا ہوگا اور اپنے مقدس مقامات کا دفاع کرنا ہوگا، اس میں ذرہ برابرکو تاہی بھی برداشت نہیں ہوسکتی۔
برادران اسلام! سازشی یہودیوں کے مقابلہ میں سب سے پہلا اور بنیادی قدم یہ ہے کہ ہم اپنی اندرونی اصلاح کریں۔ امت کی داخلی اصلاح، پوری امت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے دشمن کے مقابلے میں لا کھڑا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ نیز ان حالات میں دوست اور دشمن کی پہچان بھی ایک بنیادی مسئلہ ہے اور دشمن کی سازشوں اور چالبازیوں کو جاننا بھی انتہائی ضروری ہے بدقسمتی سے انہوں نے ہمارے اندر ہی اپنے لیے ایجنٹ پیدا کر لیے ہیں جو اسلامی عقائد اور افکار سے بالکل عاری ہیں اور ان کی بولی بولتے ہیں، جو گمراہی اور ضلالت میں بہت آگے نکل گئے ہیں ، جن کی نظر میں اسلامی مقدسات نام کی کوئی چیز سرے سے ہے ہی نہیں اور جو مسجد اقصٰی کو دنیا کی دیگر عمارتوں کی طرح ایک عمارت سمجھتے ہیں۔
اختلاف و افتراق اور آپس میں بغض و عداوت، حسد اور بدعات وخرافات وہ مہلک بیماریاں ہیں جنہوں نے امت مسلمہ کے وجود کو کھوکھلا کردیا ہے اس لیے دشمن کا مقابلہ کرنے سے پہلے ان جان لیوا بیماریوں کا علاج نہایت ضروری اور اہم ہے۔
یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ امت اسی نسخہ سے شفایاب ہو سکتی ہے جس کے ذریعہ سے اس نے ابتدائے اسلام میں شفا پائی تھی۔
یاد رکھیے! کہ عقائد، اخلاق اور معاشرتی اقدار کو پس پشت ڈالنا معاشروں میں ناکامیوں اور بدبختیوں کا پیش خیمہ ہوا کرتا ہے۔
ہم اپنے مقدس مقامات کو دشمنوں سے اسی وقت آزاد کراسکتے ہیں جب ہم اپنے عقائد اور اخلاقیات پر کاربند ہوں، فضائل کو اختیار کرنے اور رذائل سے اجتناب کرنے والے بن جائیں۔ جب ہم طاغوت کی پیروی چھوڑ کر صحیح معنوں میں رحمان کے بندے بن جائیں ،بے پردگی اور اختلاط مردو زن اور بے حیائی کو اپنے اسلامی معاشروں سے نکال باہر کریں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی حالت پر رحم فرمائے اور ان کی اصلاح احوال فرمائے۔ آمین
مترجم:معراج الدین ندوی(یو این این

Monday, November 29, 2010

Meraj ud din nadvi: القصة العربية وتطورها

Meraj ud din nadvi: القصة العربية وتطورها

القصة العربية وتطورها(الرواية والأقصوصة والمسرحية

القصة العربية وتطورها:       
معراج الدين الندوي 
القصة لون من ألوان التعبير الأدبي تمتاز بالطابع الإنساني والحلة الجمالية الأنيقة تعتمد على الوصف والسرد والحوار.قال الدكتور عمر سليمان الأشقر في تعريف القصة بأنها: "فنّ حكاية الحوادث والأعمال بأسلوب لغوي ينتهي إلى غرض مقصودقال الدكتور محمد بن سعد: "القصة: هي عمل أدبيّ يقوم به فرد واحد ويتناول فيها جانباً من جوانب الحياة. 
وبعد التعريف بالقصة الوجيز نجد الشواهد والمصادركلها تشير إشارة واضحة إلي أن العرب منذ العصر الجاهلي کانوا يعرفون القصة لأنها كانت بابا كبيرا من أبواب أدبهم و يعرفون منها ألوانا وفنونا تدور حول الوقائع الحربیة، و الأساطیر القدیمة، وعند ما ظهر الاسلام ونزل القرآن الکریم جاء بأحسن القصص ثمّ تکونت علی هامش القرآن وتفسیره، قصص وحکایات استمرت موضوعاتها وعناصرها من تعلیم الدین الجدید. فظهرت قصص الأنبیاء وقصص المعراج وسیر النبی،قال سبحانه وتعالي "فاقصُصِ القصَصَ لَعَلهَّم یَتَفَکّرَون". جعل العرب يعرفون الشكل الفني المتكامل للقصة بعد ظهور الاسلام  .
وعندما نصل إلی العصر الأموي نری القصّة ظفرت بعنایة کبیرة حیث صارت مهنة رسمیة یشتغل بها رجال یسألون علیها الأجر وهذا ما دفع الرواة علی الخروج إلی البارئة لتألیف الروایات وجمع الأخبار و الأساطیر كقصّة عنترة وعبلة،وقصة لیلی ومجنون،وقصة جمیل وبثینة وقصة کثّیر وعزة وغیرهم.
وقد تطورت القّصة العربية في العهد العباسی، إذ بدأت طائفة من الکتاب ینقلون القصص الأعجمیة إلی العربیة حیث بلغت حوالی ستین ترجمة ومن أشهرها "کلیلة ودمنة" لعبد الله بن المقفع حیث فتح باباً جدیداً في الأدب القصصي العربي، وصار نموذجاً مثالیاً سارعلی منواله کثیر من الکتاب المتاخرین الذین صاغوا أفکارهم الفلسفیة علی لسان الحیوانات. ومن القصص الأخری الهامة قصة "الف لیلة ولیلة".
ومن القصص العربية التي صاغها العرب أنفسهم هي «البخلاء»، وقد صوّر فیها أخلاق فئات من الناس، وهم البخلاء ثمّ رسالة «التوابع والزوابع» لإبن شهید الأندلسی وهي قصّة خیالیة موضوعها لقاءات مع الشیاطین الشعراء، ثم رسالة الغفران لأبی العلاء المعري، وهي قصة خیالیة موضوعها سفر خیالي إلی الجنة والجحیم، لقي فیه المعري شعراء الجنة والجحیم، وانتقد من خلاله الشعر في العصر الجاهلی والإسلامّي. وقد تمیّزت هذه الرسالة بخیال خصب . وأما المقامات فهي أقرب الأنواع القصصیة في الأدب العربی إلی القصّة الفّنیة الجدیدة. وإضافة إلی هذه الأعمال القصصّیة نری القصّة واصلت سیرها في تضخم وکثرة، ودخلت فیها الرحلات «رحلة ابن جبیر وابن بطوطة».  
ویمکن أن نقول بأن القصة العربیة نشأت وتطورت تحت ظروف وعوامل حسب المعتقدات والأساطیر وأن الادب العربي القدیم بما فیه تراث قصصي عظیم من القصص القرآنیة، قصص الأنبیاء وسیر النبی، والمقامات والرحلات والقصص الخیالیة والتراجم . والملاحظ أن كثيراً من الباحثين والنقاد يجمعون على أن فن القصة بمفهومه الحديث هو فن أوروبي المولد والنشأة ، ثم وفد الى الأدب العربي في أوائل القرن العشرين بعد ازدهاره في موطنه الأصلي ،وهذا رأي بحاجة الى إعادة نظر لوضع الأمور في مكانها الصحيح .
وينقسم الفن القصصي من حيث طوله وقصره وقالبه ومظهره إلى أربعة أنواع وهي :الأقصوصة والقصّة والرواية والمسرحية.
الأقصوصة:    وهي التي تكتَب في صفحة أو صفحتين، ولا يسمَح ميدانها بتعدّد الأحداث والشخصيّات وهى نموذج حديث ومصغر من القصة ولا تزيد عن عدة صفحات اجمالا ونماذجها هي مانراه  منشوراً في المجلات والجرائد .  
القصّة:    وهي أطول من الأقصوصة، وتكتب من فصل واحد عادة.وهي تختلف عن الرواية في امور كثيرة تتناول حادثة واحدة من حوادث الحياة يكون بطلها واحدا او اثنين وزمنها قصير و تتحدث عن جزئية او حدث محدد زمانيا ومكانيا من حياة شخص او عدة اشخاص و تكتفي القصة بتكثيف فكرة واحدة و محددة في حدث او حادثة ما.

الرواية:      وهي التي تتعدّد فصولها، ويسمح ميدانها بتعدّد الأحداث والشخصيات أكثر من القصة ، تمتد الرواية لفترة طويلة من الزمن وقد تشمل حياة شخص او اشخاص باكملها  كما حدث مع الثلاثية لنجيب محفوظ وربما امتدت الى اكثر من جيل. وتحمل الرواية في طياتها مجمل الاحداث والتطورات والتغيرات التي تستجد خلال دورة حياتها. تتميز الرواية بانها اطول من القصة. ولذلك غالبا ما تعالج الرواية عدة مسائل و افكار لتكون منها حشدا من القرائن والاستشهادات والادلة التي يمكن ان تخدم الفكرة الاساسية للرواية.
            
 المسرحية :
   نص أدبي يأتي على هيئة حوار يصور به الكاتب قصة مأساوية أو هزلية ويقوم             الممثلون بتمثيل النص المسرحي بقاعة المسرح ضمن إطار فني ويدور بين شخصيات مختلفة وهي من أقدم الفنون الأدبية التي عرفتها الحضارة الإنسانية لكن إقبال العرب على المسرح لم  يتم إلا في العصر الحديث. فإنّه حديث النشأة في الأدب العربي ظهر على يد مارون النقاش 1847م بعد عودته من الغرب وقدم لأول مرة مسرحية "البخيل"         



Sunday, November 28, 2010

Meraj ud din nadvi: كلمات في الحق والصدق

Meraj ud din nadvi: كلمات في الحق والصدق

تقليد كي شرعي حيثيت


: تقلید کا لغوی معنی
تقلید کا معنی لغت میں پیروی ہے اور لغت کے اعتبار سے تقلید، اتباع،اطاعت اوراقتداءکے سب ہم معنی ہیں۔تقلید کے لفظ کا مادہ قلادہ ہے۔ جب انسان کے گلے میں ڈالا جائے تو ہار کہلاتا ہے اور جب جانور کے گلے میں ڈالا جائے تو پتہ کہلاتا ہے۔ ہم چونکہ انسان ہیں اس لیے انسانوں والا معنی بیان کرتے ہیں اور جانوروں کا جانوروں والا معنی پسند ہے۔
تقلید کا شرعی معنی
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ تقلید کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہے۔
تقلید کہتے ہیں کسی کا قول محض اس حسن ظن پر مان لینا کہ یہ دلیل کے موافق بتلاوے گا اور اس سے دلیل کی تحقیق نہ کرنا “ ( الاقتصاد ص ۵)
تقلید کی تعریف کے مطابق راوی کے روایت کو قبول کرنا تقلید فی الروایت ہے اور مجتہد کی درایت کو قبول کرنا تقلید الدرایت ہے۔ کسی محدث کی رائے سے کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف ماننا بھی تقلید ہے اور کسی محدث کی رائے سے کسی راوی کو ثقہ یا مجہول یا ضعیف ماننا بھی تقلید ہے۔ کسی امتی کے بنائے ہوئے اصول حدیث، اصول تفسیر، اصول فقہ کو ماننا بھی تقلید ہے
تقلید جائز اور ناجائز
جس طرح لغت کے اعتبار سے کتیا کے دودھ کو بھی دودھ ہی کہا جاتا ہے اور بھینس کے دودھ کو بھی دودھ کہتے ہیں۔ مگر حکم میں حرام اور حلال کا فرق ہے اسی طرح تقلید کی بھی دو قسمیں ہیں۔ اگرحق کی مخالفت کے لئے کسی کی تقلید کرے تو یہ مذموم ہے جیسا کہ کفارومشرکین، خدا اور رسول الله صلي الله عليه وسلم کی مخالفت کےلئے اپنے گمراہ وڈیروں کی تقلید کرتے تھے۔ اگرحق پر عمل کرنے کےلئے تقلید کرے کہ میں مسائل کا براہ راستی استنباط نہیں کرسکتا اور مجتہد کتاب وسنت کو ہم سے زیادہ سمجھتا ہے ۔ اسلیے اس سے خدا و رسول الله صلي الله عليه وسلم کی بات سمجھ کر عمل کرے تویہ تقلید جائز اور واجب ہے ۔ٍ
کن مسائل میں تقلید کی جاتی ہے؟
صرف مسائل اجتہادیہ میں تقلید کی جاتی ہے اور حدیث معاذ ؓ(جس کو نواب صدیق حسن خان حدیث مشہور فرماتے ہیں۔ الروضہ الندیہ ج ۲ ص ۶۴۲) میں اجتہادیہ کے اصولوں سے کتاب وسنت سے مجتہد اخذ کرے گا۔
نوٹ: محدثین کا اصول حدیث بنانا، کسی حدیث کو صحیح، ضعیف کہنا کسی روای کو ثقہ یا مجروح قرار دینا بھی ان کا اجتہاد ہے۔
کن کی تقلید کی جائے ؟
ظاہر ہے مسائل اجتہادےہ میں مجتہد کی ہی تقلید کی جائے گی اور مجتہد کا اعلان ہے کہ قیاس مظہر لامثبت (شرح عقائد نسفی) کہ ہم کوئی مسئلہ اپنی ذاتی رائے سے نہیں بتاتے بلکہ ہر مسئلہ کتاب و سنت واجتماع سے ہی ظاہر کر کے بیان کرتے ہیں اور مجتہدین کا اعلان ہے کہ ہم پہلے مسئلہ قرآن پاک سے لےتے ہیں وہاں نہ ملے تو سنت سے، وہا ں نہ ملے تواجماع صحابہ ؓ سے ، اگر صحابہ ؓ میں اختلاف ہو جائے تو جس طرف خلفاءراشدین ہوں اس سے لیتے ہیں اور اگر یہاں بھی نہ ملے تو اجتہادی قاعدوں سے اسی طرح مسئلہ کا حکم تلاش کر لیتے ہیں۔ جس طرح حساب دان ہر نئے سوال کا جواب حساب کے قواعد کی مدد سے معلوم کر لیتا ہے اور وہ جواب اس کی ذاتی رائے نہیں بلکہ فن حساب کا ہی جواب ہوتا ہے۔
کون تقلید کرے؟
ظاہر ہے کہ حساب دان کے سامنے جب سوال آئے گا تو وہ خود حساب کے قاعدوں سے سوال کا جوا ب نکال لے گااور جس کو حساب کے قاعدے نہیں آتے وہ حساب دان سے جواب پوچھ لے گا ۔ اسی طرح مسائل اجتہادیہ میں کتاب وسنت پر عمل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ جو شخص خود مجتہد ہو گا وہ خود قواعد اجتہادیہ سے مسئلہ تلاش کر کے کتاب وسنت پر عمل کرے گا اور غیر مجتہد یہ سمجھ کر کہ میں خود کتاب و سنت سے مسئلہ استنباط کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس لیے کتاب و سنت کے ماہر سے پوچھ لوں کہ میں کتاب و سنت کا کیاحکم ہے۔ اس طرح عمل کرنے کو تقلید کہتے ہیں۔ اور مقلد ان مسائل کو ان کی ذاتی رائے سمجھ کرعمل نہیں کرتا بلکہ یہ سمجھ کر کہ مجتہد نے ہمیں مراد خدا اور مراد رسول ﷺ سے آگا ہ کیا ہے۔
غیر مقلد کی تعریف
نوٹ: (۱) مجتہد اور مقلد کا مطلب تو آپ نے جان لیا اب غیر مقلد کا معنی بھی سمجھ لیں کہ جو نہ خود اجتہاد کر سکتا ہو اور نہ کسی کی تقلید کرے یعنی نہ مجتہد ہو نہ مقلد۔ جیسے نماز باجماعت میں ایک امام ہوتا ہے باقی مقتدی۔ لیکن جو شخص نہ امام ہو نہ مقتدی، کبھی امام کو گالیاں دے کبھی مقتدیوں سے لڑے یہ غیر مقلد ہے یا جیسے مالک میں ایک حاکم ہوتا ہے باقی رعایا۔ لیکن جو نہ حاکم ہو نہ رعایا بنے وہ ملک کاباغی ہے۔یہی مقام غیرمقلد کا ہے۔
نوٹ: (۲) غیر مقلدین میں اگرچہ کئی فرقے اور بہت سے اختلافات ہیں۔ انتے اختلافات کسی اور فرقے میں نہیں ہیں۔ مگر ایک بات پر غیر مقلدین کے تمام فرقوں کا اتفاق او اجماع ہے وہ ےہ ہے کہ غیر مقلدوں کو نہ قرآن آتا ہے، نہ حدیث، کیونکہ نواب صدیق حسن خان، نواب وحید الزمان، میر نور الحسن، مولوی محمد حسین اور مولوی ثناء اﷲ وغیرہ نے جو کتابیں لکھی ہیں، اگرچہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے قران وحدیث کے مسائل لکھے ہیں، غیر مقلدین کے تمام فرقوں کے علماءاور عوام بالاتفاق ان کتابوں کو غلط قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں بلکہ برملاتقریروں میں کہتے ہیں کہ ان کتابوں کو آگ لگا دو۔ گویا سب سے غیر مقلدین کا اجماع ہے کہ ہر فرقہ کے غیر مقلد علماء قران وحدیث پر جھوٹ بولتے ہیں انہیں قرآن وحدیث نہیں آتا وہ غلط گندے اور نہایت شرمناک مسائل لکھ لکھ کر قرآن وحدیث کا نام لے دیتے ہیں اس لیے وہ کتابیں اجماعاً مردود ہیں اور یہ سب جاہل ہیں۔
 لفظ تقلید کا ذکرقران وحدیث میں ہے یا نہیں؟
الجواب: قرآن پاک نے ان مقدس جانوروں کو جو خاص خانہ کعبہ کی نیاز ہیں، قلائدفرمایا ہے اور ان کی بے حد تعظیم وحرمت کا حکم فرمایا ہے اور ان مقلدین کے بے حرمتی کرنے والوں کو عذاب شدید کی دھمکی دی ہے ۔ البتہ کسی خنزیر، کتے وغیرہ و قلائد بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دی ہے۔
نوٹ:(۱) اصول حدیث میں مرسل، مدلس، معضل، وغیرہ جس قدر اصطلاحی الفاظ محدثین نے استعمال کےے ہیں، ان الفاظ کا ان ہی اصطلاحی معنوں میں قرآن وحدیث میں ہونا ثابت فرما دیں یا اصول حدیث کا انکار کر دیں۔
نوٹ: (۲) سائل نے سوال میں صرف قرآن وحدیث کا ذکر کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ سائل اجماع کو دلیل شرعی نہیں مانتا۔ اگر واقعہ ایسا ہے تو سائل انکار اجماع کی وجہ سے دوزخی ہے اور سائل قیاس شرعی کو بھی دلیل نہیں مانتا تو اس کے بدعتی ہونے میں کچھ شک نہیں کیونکہ انکار قیاس کی بدعت نظام معتزلی نے جاری کی تھی۔
ائمہ مجتہدین کے اتباع کےلئے تقلید کا لفظ اسی اجماع اور تواتر کے ساتھ امت میں استعمال ہوتا چلا آرہا ہے جس طرح اصول حدیث، اصول تفسیر، اصول فقہ، قواعد صرف و نحو تواتر کے ساتھ مستعمل ہیں۔ محدیثن کے حالات میں جو کتابیں محدثین نے مرتب فرمائی ہیں وہ چار ہی قسم کی ہیں۔ طبقات حنفیہ، طبقات شافعیہ، طبقات مالکیہ، اورطبقات حنابلہ، طبقات غیر مقلدین نامی کوئی کتاب کسی محدث نے تحریر نہیں فرمائی۔
 کیا قرآن و حدیث میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ چاروں اماموں میں سے کسی ایک امام کی تقلید کرو؟
الجواب قران پاک میں قرآن کی تلاوت کا حکم موجود ہے مگر ان دس قاریوں کا نام مذکور نہیں جن کر قراءتوں پر آج ساری دنیا تلاوت قرآن کر رہی ہے اور نہ یہ حکم ہے کہ ان دس قاریوں میں سے کسی ایک قاری کی قراءة پر قرآن پڑھنا ضروری ہے مگر ہمارے ملک پاک وہند میں سب مسلمان قاری عاصم کوفی ؒ کی قرآة اور قاری حفص کوفی ؒ کی روایت پر قرآن پڑھتے ہیں۔ آپ قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ ساری زندگی ایک قرات پر قرآن پڑھنا کفر ہے یا شرک یا حرام یا جائز۔
اسی طرح کتاب وسنت سے سنت کا واجب العمل ہونا ثابت ہے مگر نام لے کر بخاری ،مسلم، نسائی، ابودادو، ترمذی، ابن ماجہ کو صحاح ستہ نہیں کہا گیا۔ نہ بخاری و مسلم کو صحیحین کہا گیا۔ نہ بخاری کو اصح الکتاب بعد کتاب اﷲ کہا گیا جس طرح ان دس قاریوں کا قاری ہونا اجماع امت سے ثابت ہے، اسی طرح ان چاروں اماموں کا مجتہد ہونا اجماع امت سے ثابت ہے اور مجتہد کی تقلید کا حکم کتاب وسنت سے ثابت ہے۔
نوٹ: سائل نے یہ سوال اصل میں شیعہ سے سرقہ کیا ہے کیونکہ کوئی اہل سنت یہ سوال نہیں کرتا، شیعہ کے ان سوالات کا ذکر ابن تیمیہ ؒ نے منہاج السنہ میں کیا ہے اور بعض کا ذکر شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی ؒ نے تحفہ اثنا عشریہ میں کیاہے۔ اس ملک میں جب انگریز آیا اور اس نے لڑاو اور حکومت کرو کی پالیسی کو اپنایا تو یہاں غیر مقلدین کا فرقہ پیدا ہوا جس کا مشن یہ تھا کہ انگریز کے خلاف جہاد حرام اور مسلمانوں کی مساجد میں فساد فرض۔ یہاں تک کہ سب مسلمان مکہ اور مدینہ کو مرکز اسلام مانتے تھے۔ ان مراکز اسلام سے جب اس فرقہ کے بارے میں فتوی لیا گیا تو انہوں نے بالاتفاق ان کوگمراہ قراردیا۔(دیکھو تنبیہ الغافلین) ان لوگوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے مایوس ہو کر یمن کے زیدی شیعوں کی شاگردی اختیار کی لی اور قاضی شوکانی، امیر یمانی کے افکار کو اپنالیا۔ وہاں سے ہی یہ سوالات درآمد کیے گیے اوراہل اسلام کے دل میں وسوسے ڈالے گئے اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے ۔آج تک اسی بدعتی فرقہ کہ یہ جرات نہیں ہوئی کہ ان سوالات کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مفتی صاحبان کے سامنے پیش کر کے فتوی حاصل کریں کیونکہ ان کو کامل یقین ہے کہ وہاں سے سوالات کا جواب ہمارے خلاف آئے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ شیعہ کو ایسا سوال کیوں کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ شیعہ اپنے بارہ اماموں کو منصوص من اﷲ مانتے ہیں اس لیے اہل سنت و الجماعت نے ان باره کے ناموں کی نص پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ شیعہ اپنے ائمہ کے بارے میں نص پیش نہ کر سکے تو لا جواب ہو کر اہل سنت و الجماعت سے مطالبہ کر دیا کہ تم چاروں اماموں کے نام نص پیش کرو حالانکہ اہل سنت الجماعت ائمہ اربعہ کو منصوص من اﷲ مانتے ہی نہیں تو نص کا مطالبہ ہی غلط ہے ۔ ہاں ہم اہل سنت و الجماعت باجماع امت ان کا مجتہد ہونا مانتے ہیں۔
 چاروں اماموں سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں مثلاً صحابہ کرام ؓ سے لے کر امام ابو حنیفہؒ تک یہ لوگ کس امام کی تقلید کرتے تھے۔ یا اس وقت تقلید واجب نہ تھی؟
الجواب: یہ سوال بھی کسی اہل سنت والجماعت محدث یا فقیہ نے پیش نہیں کیا بلکہ یہ سوال بھی شعیہ کی طرف سے اٹھا تھا۔ صحابہ کرام ؓ کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ شاہ ولی اﷲ ؒ فرماتے ہیں۔ “صحابہ کے دو گروہ تھے۔ مجتہد اور مقلد” (قرة العینین) یہ سب صحابہ ؓ عربی داں تھے لیکن بقول ابن القیم ان میں اصحاب فتوی صرف 149 تھے۔جن میں سے سات مکثرین میں ہیں۔ یعنی انہوں نے بہت زیادہ فتوے دئیے۔20 صحابہ متوسطین میں ہیں۔ جنہوں نے کئی ایک فتوے دیے۔ اور 122 مقلین میں ہیں جنہوں نے بہت کم فتوے دئیے۔ ان مفتی صحابہ کرام ؓ کے ہزاروں فتاوی مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق، تہذیب الآثار، معانی الآثار وغیرہ حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ جن میں مفتی صاحبان نے صرف مسئلہ بتایا، ساتھ بطور دلیل کوئی آیت یا حدیث نہیں سنائی اور باقی صحابہؓ نے بلا مطالبہ دلیل ان اجتہادی فتاوی پر عمل کیا اسی کا نام تقلید ہے۔ ان مفتی صحابہؓ کے بارے میں شاہ ولی اﷲ ؓ فرماتے ہیں:۔
ثم انہم تفرقوا فی البلاد صار کل واحد مقتدی ناحیة منالنواحی
کہ صحابہ متفرق شہروں میں پھیل گئے اور ہر علاقہ میں ایک ہی صحابی کی تقلید ہوتی تھی۔ ( الانصاف ص ۳)
مثلاً مکہ میں حضرت ابن عباس کی، مدینہ میں حضرت زید بن ثابت، کوفہ میں حضرت عبد اﷲ بن مسعود ؓ، یمن میں حضرت معاذ اور بصرہ میں حضرت انس کی تقلید ہوتی تھی۔ پھر ان کے بعد تابعین کا دور آیا تو شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی فرماتے ہیں:۔
فعند ذالک صار لکل عالم من التابعین مدہب علی حیالہ فانتصب فی کل بلد امام
یعنی ہرتابعی عالم کا ایک مذہب قرار پایا اور ہر شہر میں ایک ایک امام ہوگیا۔ لوگ اس کی تقلیدکرتے۔ (الانصاف ص ۶)
صدر الائمہ مکی فرماتے ہیں کہ حضرت عطاءخلیفہ ہشام بن عبد الملک کے ہاں تشریف لے گئے تو خلیفہ نے پوچھا کہ آپ شہروں کے علماءکو جانتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں تو خلیفہ نے پوچھا کہ آپ شہروں کے علماءکو جکانتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں تو خلیفہ نے پوچھا اہل مدینہ کے فقیہ کون ہیں؟ فرمایا نافع، مکہ میں عطا،یمن میں یحییٰ بن کثیر، شام میں مکحول، عراق میں میموں بن مہران، خراسان میں ضحاک، بصرہ میں حسن بصری، کوفہ میں ابراہیم نخعی،(مناقب موفق ص ۷) یعنی ہر علاقہ میں ایک ہی فقیہ کے فقہی فتاوی پر عمل درآمد ہوتا تھا۔ یہ واقعہ امام حاکم نے بھی معرفت علوم حدیث میں لکھا ہے۔ اس لیے امام غرالی ؒ فرماتے ہیں: ”تقلید پر سب صحابہ کا اجماع ہے کیونکہ صحابہ میں مفتی فتوی دیتاتھا اور ہر آدمی کو مجتہد بننے کےلئے نہیں کہتا تھا اور یہی تقلید ہے اور یہ عہد صحابہؓ میں تواتر کے ساتھ ثابت ہے“۔ ( المستصفی ج 2 ص385)
علامہ آمدی فرماتے ہیں صحابہ اور تابعین کے زمانے میں مجتہدین فتوی دیتے تھے مگر ساتھ دلیل بیان نہیں کرتے تھے اور نہ ہی لوگ دلیل کا مطالبہ کرتے تھے اور اس طرز عمل پر کسی نے انکار نہیں کیا، بس یہی اجماع ہے کہ عامی مجتہد کی تقلید کرے۔ شاہ ولی اﷲ ؒ شیخ عزالدین بن سلام ؒ سے نقل کرتے ہیں۔
انا الناس لم یزالوا عن زمن الصحابة ؓ الی ان ظہرت المذاہب الا ربعة یقلدون من اتفق من العلماءمن غیر نکیر میں ایع یعتبر انکارہ، ولو کان ذالک باطلا لا نکروہ (عقد الجید ص 36)
اور خود فرماتے ہیں:۔
فہذا کیف ینکرہ احد مع ان الاستفناءلم یزل بین المسلمین من عہد النبی ﷺ والا فرق بین ان یستفتی ہدا دائما ویستفتی ہذا حینا بعد ان یکون مجمعا علی مادکرناہ (عقد الجید ص39)
یعنی دور صحابہ ؓ وتابعین سے تقلید تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور اس دور میں ایک شخص بھی منکر تقلید نہ تھا چونکہ ان صحابہؓ اور تابعین ؒ کی مرتب کی ہوئی کتابیں آج موجودنہیں جو متواتر ہوں۔ہاں ان کے مذاہب کو ائمہ اربعہ نے مرتب کردایا تو اب ان کے واسطہ سے ان کی تقلید ہو رہی ہے جیسے صحابہؓ و تابعین ؒ بھی یہی قران پاک تلاوت فرماتے تھے مگر اس وقت اس کا نام قراة حمزہ نہ تھا۔ صحابہؓ وتابعین ؒ بھی ےہی احادیث مانتے تھے مگر رواہ البخاری اور رواہ مسلم نہیں کہتے تھے۔یہ سوال سائل کا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کیا دس قاریوں سے پہلے قرآن نہیں پڑھاجاتا تھا؟ یا صحابہؓ وتابعین ؒ میں نہ کسی نے بخاری پڑھی نہ مشکوة۔ کیا اس زمانہ میں حدیث کا ماننا اسلام میں ضروری نہ تھا؟
 کیا چاروں اماموں کے بعد کوئی مجتہد پیدا نہیں ہوا ؟ اور اب کوئی مجتہد پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ سوال تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں۔“300ھ کے بعد کوئی مجتہد مطلق پیدا نہیں ہوا ” اورا مام نوویؒ نے بھی شرح مہذب میں یہی فرمایا ہے ۔ اب مجتہد مطلق کا آنا تو محال شرعی ہے نہ ہی محال عقلی ہاں محال مادی ہے۔ لیکن وہ آ کر کیا کر ے گا؟ کیا اگر آج کا محدث دعوی کر کے ساری صحیح بخاری کو غلط قرار دے اور حدیث اور محدثین کی عظمت کو ختم کرے تو اس سے دین کا کیا فائدہ ہوگا ۔ اسی طرح کو ئی مجتہدین بن کر پہلے سارے علمی سرمائے سے اعتماد ختم کر ے تو کیا فائدہ ہوگا؟
ایک امام کی تقلید واجب ہو نے کے کیا دلائل ہیں؟ اورواجب کی تعریف اور حکم بھی بیان کریں؟
الجواب: اس ملک میں یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ جیسے یمن میں صرف حضرت معاذ مجتہد تھے اور سب لوگ ان کی تقلید کرتے تھے اسی طرح اس ملک میں مدارس، مساجد ، مفتی صرف اور صرف سیدنا امام اعظم ابو حنیفہؒ کے مذہب کے ہیں۔ دوسرے کسی مذہب کے مفتی موجود ہی نہیں کہ عوام ان سے فتوی لیں۔ اس لیے یہاں تو ایک ہی امام کے پیچھے ساری نمازیں پڑھنی واجب ہیں،۱ یک ہی ڈاکٹر ہو سب اسی سے علاج کرواتے ہیں۔ ایک ہی قاری ہو سب اسی سے قرآن پڑھ لیتے ہیں اس لیے یہاں ایک ہی امام کی تقلید واجب ہے جیسے مقدمتہ الواجب واجب کہاجاتا ہے۔ اس کے بغیر دین پر عمل کرنا ناممکن ہے کوئی شخص ایک رکعت نماز بھی نہیں پڑھ سکتا اور تارک اس تقلید کا فاسق ہے ۔ شاہولی اﷲ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں اور صاحب جمع الجوامع فرماتے ہیں کہ ” عامی پر ایک امام کی تقلید واجب ہے“ (عقد الجید ص 50) اور دلیل اس کی اجماع ہے۔ (الاشباة ص143)
 امام ابو بوسفؒ اور امام محمدؒ امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد ہیں اور آپ کی تقلید بھی کرتے ہیں مگر انہوں نے بہت سے مسائل میں امام صاحب کی مخالفت کیوں کی؟
الجواب: امام ابو یوسف اور امام محمد یہ دونوں حضرات خود مجتہد فی المذہب ہیں اور مجتہد کو دوسرے مجتہد کی تقلید واجب نہیں ہوتی۔ ہاں اگر اپنے سے بڑے مجتہد کی تقلید کرے تو جائز ہے۔
 کیا کسی امام نے اپنی تقلید کرنے کا حکم دیا ہے؟
الجواب: ائمہ اربعہ کے اقوال مختلف کتابوں میں موجود ہیں جن میں ان حضرات نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہماری ہر اس بات کو مانو جو قرآن وسنت کے موافق ہواور جو خلاف ہو جائے اس کو مت مانو۔ مطلب یہ ہو ا کہ وہ اپنے اقوال کی ترغیب دے رہے ہیں اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ان کے اقوال قرآن وسنت کے موافق ہیں اور قرآن وسنت کی مخالفت نہیں کرتے پس اس سے ان کی تقلید کی حکم ان کے اپنے اقوال سے ثابت ہوا۔
 جو لوگ چاروں اماموں میں سے کسی امام کی تقلید نہیں کرتے۔ ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
الجواب: موجودہ دور میں جو لوگ ائمہ اربعہ میں سے کسی اےک امام کی تقلید نہیں کرتے وہ فافق ہیں۔ اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں اور حرمین شریفین کے فتووں کے مطابق ان پرتعزیز واجب ہے۔
مسئلہ تقلید پر بے شمار کتابیں موجود ہیں۔ چند ایک نام لکھ دیتا ہوں۔
(۱)تقلید کی شرعی حیثیت (۲) الکلام المفید فی اثبات التقلید (۳)تقلید ائمہ اور مقام ابو حنیفہؒ
(۴) الاقتصاد (۵) تنقیح (۶) خیر التنقید
(۷) اجتہاد اور تقلید (۸) تقلید شخصی (۹) توفیر الحق
(۱۰) تنویر الحق (۱۱) تحفہ العرب والعجم (۱۲) تقلید اور امام اعظم
(۱۳) سبیل الرشاد (۱۴) ادلہ کاملہ (۱۵) ایضاح الادلہ
(۱۶) مدارالحق بجواب معیاد الحق (۱۷) نتصار الحق بجواب معیار الحق (۱۸) تنقید فی بیان التقلید
وغیر ہ وغیرہ۔

:آخري بات 

جو شخص مجتہد نہ ہو اس پر واجب ہے کہ ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) میں سے کسی ایک کی تقلید واتباع کرے، قرآن، حدیث، اجماع امت اور قیاس چاروں دلیلوں سے اس کا وجوب ثابت ہے، اور ائمہ اربعہ ہی کی تقلید کرنا کوئی امر عقلی یا شرعی نہیں ہے بلکہ اتفاقی ہے، مشیتِ خداوندی سے ان چار مذاہب کے سوا اور جتنے مذاہب تھے سب مندرس يا ختم ہوگئے کیوں کہ دس بیس پچاس یا سو مسائل اگر کچھ مجتہدین سے منقول ہیں تو وہ مستقل مذہب نہیں بن سکتے اور اگر ان سو پچاس مسائل میں ان کی تقلید بھی کرلی تو دیگر مسائل میں کیا کریں گے، جب چاروں مذاہب کے علاوہ کل مذاہب کالعدم قرار پائے تو تقلید ان چاروں مذاہب میں منحصر ہوگئی۔ آپ مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی تصنیف تقلید کی شرعی حیثیت نیز حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی تالیف [اجتہاد وتقلید کا آخر فیصلہ] کتابیں منگواکر خوب اچھی طرح مطالعہ کرلیں۔

معراج الدين ندوي