Powered By Blogger

Monday, November 29, 2010

Meraj ud din nadvi: القصة العربية وتطورها

Meraj ud din nadvi: القصة العربية وتطورها

القصة العربية وتطورها(الرواية والأقصوصة والمسرحية

القصة العربية وتطورها:       
معراج الدين الندوي 
القصة لون من ألوان التعبير الأدبي تمتاز بالطابع الإنساني والحلة الجمالية الأنيقة تعتمد على الوصف والسرد والحوار.قال الدكتور عمر سليمان الأشقر في تعريف القصة بأنها: "فنّ حكاية الحوادث والأعمال بأسلوب لغوي ينتهي إلى غرض مقصودقال الدكتور محمد بن سعد: "القصة: هي عمل أدبيّ يقوم به فرد واحد ويتناول فيها جانباً من جوانب الحياة. 
وبعد التعريف بالقصة الوجيز نجد الشواهد والمصادركلها تشير إشارة واضحة إلي أن العرب منذ العصر الجاهلي کانوا يعرفون القصة لأنها كانت بابا كبيرا من أبواب أدبهم و يعرفون منها ألوانا وفنونا تدور حول الوقائع الحربیة، و الأساطیر القدیمة، وعند ما ظهر الاسلام ونزل القرآن الکریم جاء بأحسن القصص ثمّ تکونت علی هامش القرآن وتفسیره، قصص وحکایات استمرت موضوعاتها وعناصرها من تعلیم الدین الجدید. فظهرت قصص الأنبیاء وقصص المعراج وسیر النبی،قال سبحانه وتعالي "فاقصُصِ القصَصَ لَعَلهَّم یَتَفَکّرَون". جعل العرب يعرفون الشكل الفني المتكامل للقصة بعد ظهور الاسلام  .
وعندما نصل إلی العصر الأموي نری القصّة ظفرت بعنایة کبیرة حیث صارت مهنة رسمیة یشتغل بها رجال یسألون علیها الأجر وهذا ما دفع الرواة علی الخروج إلی البارئة لتألیف الروایات وجمع الأخبار و الأساطیر كقصّة عنترة وعبلة،وقصة لیلی ومجنون،وقصة جمیل وبثینة وقصة کثّیر وعزة وغیرهم.
وقد تطورت القّصة العربية في العهد العباسی، إذ بدأت طائفة من الکتاب ینقلون القصص الأعجمیة إلی العربیة حیث بلغت حوالی ستین ترجمة ومن أشهرها "کلیلة ودمنة" لعبد الله بن المقفع حیث فتح باباً جدیداً في الأدب القصصي العربي، وصار نموذجاً مثالیاً سارعلی منواله کثیر من الکتاب المتاخرین الذین صاغوا أفکارهم الفلسفیة علی لسان الحیوانات. ومن القصص الأخری الهامة قصة "الف لیلة ولیلة".
ومن القصص العربية التي صاغها العرب أنفسهم هي «البخلاء»، وقد صوّر فیها أخلاق فئات من الناس، وهم البخلاء ثمّ رسالة «التوابع والزوابع» لإبن شهید الأندلسی وهي قصّة خیالیة موضوعها لقاءات مع الشیاطین الشعراء، ثم رسالة الغفران لأبی العلاء المعري، وهي قصة خیالیة موضوعها سفر خیالي إلی الجنة والجحیم، لقي فیه المعري شعراء الجنة والجحیم، وانتقد من خلاله الشعر في العصر الجاهلی والإسلامّي. وقد تمیّزت هذه الرسالة بخیال خصب . وأما المقامات فهي أقرب الأنواع القصصیة في الأدب العربی إلی القصّة الفّنیة الجدیدة. وإضافة إلی هذه الأعمال القصصّیة نری القصّة واصلت سیرها في تضخم وکثرة، ودخلت فیها الرحلات «رحلة ابن جبیر وابن بطوطة».  
ویمکن أن نقول بأن القصة العربیة نشأت وتطورت تحت ظروف وعوامل حسب المعتقدات والأساطیر وأن الادب العربي القدیم بما فیه تراث قصصي عظیم من القصص القرآنیة، قصص الأنبیاء وسیر النبی، والمقامات والرحلات والقصص الخیالیة والتراجم . والملاحظ أن كثيراً من الباحثين والنقاد يجمعون على أن فن القصة بمفهومه الحديث هو فن أوروبي المولد والنشأة ، ثم وفد الى الأدب العربي في أوائل القرن العشرين بعد ازدهاره في موطنه الأصلي ،وهذا رأي بحاجة الى إعادة نظر لوضع الأمور في مكانها الصحيح .
وينقسم الفن القصصي من حيث طوله وقصره وقالبه ومظهره إلى أربعة أنواع وهي :الأقصوصة والقصّة والرواية والمسرحية.
الأقصوصة:    وهي التي تكتَب في صفحة أو صفحتين، ولا يسمَح ميدانها بتعدّد الأحداث والشخصيّات وهى نموذج حديث ومصغر من القصة ولا تزيد عن عدة صفحات اجمالا ونماذجها هي مانراه  منشوراً في المجلات والجرائد .  
القصّة:    وهي أطول من الأقصوصة، وتكتب من فصل واحد عادة.وهي تختلف عن الرواية في امور كثيرة تتناول حادثة واحدة من حوادث الحياة يكون بطلها واحدا او اثنين وزمنها قصير و تتحدث عن جزئية او حدث محدد زمانيا ومكانيا من حياة شخص او عدة اشخاص و تكتفي القصة بتكثيف فكرة واحدة و محددة في حدث او حادثة ما.

الرواية:      وهي التي تتعدّد فصولها، ويسمح ميدانها بتعدّد الأحداث والشخصيات أكثر من القصة ، تمتد الرواية لفترة طويلة من الزمن وقد تشمل حياة شخص او اشخاص باكملها  كما حدث مع الثلاثية لنجيب محفوظ وربما امتدت الى اكثر من جيل. وتحمل الرواية في طياتها مجمل الاحداث والتطورات والتغيرات التي تستجد خلال دورة حياتها. تتميز الرواية بانها اطول من القصة. ولذلك غالبا ما تعالج الرواية عدة مسائل و افكار لتكون منها حشدا من القرائن والاستشهادات والادلة التي يمكن ان تخدم الفكرة الاساسية للرواية.
            
 المسرحية :
   نص أدبي يأتي على هيئة حوار يصور به الكاتب قصة مأساوية أو هزلية ويقوم             الممثلون بتمثيل النص المسرحي بقاعة المسرح ضمن إطار فني ويدور بين شخصيات مختلفة وهي من أقدم الفنون الأدبية التي عرفتها الحضارة الإنسانية لكن إقبال العرب على المسرح لم  يتم إلا في العصر الحديث. فإنّه حديث النشأة في الأدب العربي ظهر على يد مارون النقاش 1847م بعد عودته من الغرب وقدم لأول مرة مسرحية "البخيل"         



Sunday, November 28, 2010

Meraj ud din nadvi: كلمات في الحق والصدق

Meraj ud din nadvi: كلمات في الحق والصدق

تقليد كي شرعي حيثيت


: تقلید کا لغوی معنی
تقلید کا معنی لغت میں پیروی ہے اور لغت کے اعتبار سے تقلید، اتباع،اطاعت اوراقتداءکے سب ہم معنی ہیں۔تقلید کے لفظ کا مادہ قلادہ ہے۔ جب انسان کے گلے میں ڈالا جائے تو ہار کہلاتا ہے اور جب جانور کے گلے میں ڈالا جائے تو پتہ کہلاتا ہے۔ ہم چونکہ انسان ہیں اس لیے انسانوں والا معنی بیان کرتے ہیں اور جانوروں کا جانوروں والا معنی پسند ہے۔
تقلید کا شرعی معنی
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ تقلید کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہے۔
تقلید کہتے ہیں کسی کا قول محض اس حسن ظن پر مان لینا کہ یہ دلیل کے موافق بتلاوے گا اور اس سے دلیل کی تحقیق نہ کرنا “ ( الاقتصاد ص ۵)
تقلید کی تعریف کے مطابق راوی کے روایت کو قبول کرنا تقلید فی الروایت ہے اور مجتہد کی درایت کو قبول کرنا تقلید الدرایت ہے۔ کسی محدث کی رائے سے کسی حدیث کو صحیح یا ضعیف ماننا بھی تقلید ہے اور کسی محدث کی رائے سے کسی راوی کو ثقہ یا مجہول یا ضعیف ماننا بھی تقلید ہے۔ کسی امتی کے بنائے ہوئے اصول حدیث، اصول تفسیر، اصول فقہ کو ماننا بھی تقلید ہے
تقلید جائز اور ناجائز
جس طرح لغت کے اعتبار سے کتیا کے دودھ کو بھی دودھ ہی کہا جاتا ہے اور بھینس کے دودھ کو بھی دودھ کہتے ہیں۔ مگر حکم میں حرام اور حلال کا فرق ہے اسی طرح تقلید کی بھی دو قسمیں ہیں۔ اگرحق کی مخالفت کے لئے کسی کی تقلید کرے تو یہ مذموم ہے جیسا کہ کفارومشرکین، خدا اور رسول الله صلي الله عليه وسلم کی مخالفت کےلئے اپنے گمراہ وڈیروں کی تقلید کرتے تھے۔ اگرحق پر عمل کرنے کےلئے تقلید کرے کہ میں مسائل کا براہ راستی استنباط نہیں کرسکتا اور مجتہد کتاب وسنت کو ہم سے زیادہ سمجھتا ہے ۔ اسلیے اس سے خدا و رسول الله صلي الله عليه وسلم کی بات سمجھ کر عمل کرے تویہ تقلید جائز اور واجب ہے ۔ٍ
کن مسائل میں تقلید کی جاتی ہے؟
صرف مسائل اجتہادیہ میں تقلید کی جاتی ہے اور حدیث معاذ ؓ(جس کو نواب صدیق حسن خان حدیث مشہور فرماتے ہیں۔ الروضہ الندیہ ج ۲ ص ۶۴۲) میں اجتہادیہ کے اصولوں سے کتاب وسنت سے مجتہد اخذ کرے گا۔
نوٹ: محدثین کا اصول حدیث بنانا، کسی حدیث کو صحیح، ضعیف کہنا کسی روای کو ثقہ یا مجروح قرار دینا بھی ان کا اجتہاد ہے۔
کن کی تقلید کی جائے ؟
ظاہر ہے مسائل اجتہادےہ میں مجتہد کی ہی تقلید کی جائے گی اور مجتہد کا اعلان ہے کہ قیاس مظہر لامثبت (شرح عقائد نسفی) کہ ہم کوئی مسئلہ اپنی ذاتی رائے سے نہیں بتاتے بلکہ ہر مسئلہ کتاب و سنت واجتماع سے ہی ظاہر کر کے بیان کرتے ہیں اور مجتہدین کا اعلان ہے کہ ہم پہلے مسئلہ قرآن پاک سے لےتے ہیں وہاں نہ ملے تو سنت سے، وہا ں نہ ملے تواجماع صحابہ ؓ سے ، اگر صحابہ ؓ میں اختلاف ہو جائے تو جس طرف خلفاءراشدین ہوں اس سے لیتے ہیں اور اگر یہاں بھی نہ ملے تو اجتہادی قاعدوں سے اسی طرح مسئلہ کا حکم تلاش کر لیتے ہیں۔ جس طرح حساب دان ہر نئے سوال کا جواب حساب کے قواعد کی مدد سے معلوم کر لیتا ہے اور وہ جواب اس کی ذاتی رائے نہیں بلکہ فن حساب کا ہی جواب ہوتا ہے۔
کون تقلید کرے؟
ظاہر ہے کہ حساب دان کے سامنے جب سوال آئے گا تو وہ خود حساب کے قاعدوں سے سوال کا جوا ب نکال لے گااور جس کو حساب کے قاعدے نہیں آتے وہ حساب دان سے جواب پوچھ لے گا ۔ اسی طرح مسائل اجتہادیہ میں کتاب وسنت پر عمل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ جو شخص خود مجتہد ہو گا وہ خود قواعد اجتہادیہ سے مسئلہ تلاش کر کے کتاب وسنت پر عمل کرے گا اور غیر مجتہد یہ سمجھ کر کہ میں خود کتاب و سنت سے مسئلہ استنباط کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس لیے کتاب و سنت کے ماہر سے پوچھ لوں کہ میں کتاب و سنت کا کیاحکم ہے۔ اس طرح عمل کرنے کو تقلید کہتے ہیں۔ اور مقلد ان مسائل کو ان کی ذاتی رائے سمجھ کرعمل نہیں کرتا بلکہ یہ سمجھ کر کہ مجتہد نے ہمیں مراد خدا اور مراد رسول ﷺ سے آگا ہ کیا ہے۔
غیر مقلد کی تعریف
نوٹ: (۱) مجتہد اور مقلد کا مطلب تو آپ نے جان لیا اب غیر مقلد کا معنی بھی سمجھ لیں کہ جو نہ خود اجتہاد کر سکتا ہو اور نہ کسی کی تقلید کرے یعنی نہ مجتہد ہو نہ مقلد۔ جیسے نماز باجماعت میں ایک امام ہوتا ہے باقی مقتدی۔ لیکن جو شخص نہ امام ہو نہ مقتدی، کبھی امام کو گالیاں دے کبھی مقتدیوں سے لڑے یہ غیر مقلد ہے یا جیسے مالک میں ایک حاکم ہوتا ہے باقی رعایا۔ لیکن جو نہ حاکم ہو نہ رعایا بنے وہ ملک کاباغی ہے۔یہی مقام غیرمقلد کا ہے۔
نوٹ: (۲) غیر مقلدین میں اگرچہ کئی فرقے اور بہت سے اختلافات ہیں۔ انتے اختلافات کسی اور فرقے میں نہیں ہیں۔ مگر ایک بات پر غیر مقلدین کے تمام فرقوں کا اتفاق او اجماع ہے وہ ےہ ہے کہ غیر مقلدوں کو نہ قرآن آتا ہے، نہ حدیث، کیونکہ نواب صدیق حسن خان، نواب وحید الزمان، میر نور الحسن، مولوی محمد حسین اور مولوی ثناء اﷲ وغیرہ نے جو کتابیں لکھی ہیں، اگرچہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے قران وحدیث کے مسائل لکھے ہیں، غیر مقلدین کے تمام فرقوں کے علماءاور عوام بالاتفاق ان کتابوں کو غلط قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں بلکہ برملاتقریروں میں کہتے ہیں کہ ان کتابوں کو آگ لگا دو۔ گویا سب سے غیر مقلدین کا اجماع ہے کہ ہر فرقہ کے غیر مقلد علماء قران وحدیث پر جھوٹ بولتے ہیں انہیں قرآن وحدیث نہیں آتا وہ غلط گندے اور نہایت شرمناک مسائل لکھ لکھ کر قرآن وحدیث کا نام لے دیتے ہیں اس لیے وہ کتابیں اجماعاً مردود ہیں اور یہ سب جاہل ہیں۔
 لفظ تقلید کا ذکرقران وحدیث میں ہے یا نہیں؟
الجواب: قرآن پاک نے ان مقدس جانوروں کو جو خاص خانہ کعبہ کی نیاز ہیں، قلائدفرمایا ہے اور ان کی بے حد تعظیم وحرمت کا حکم فرمایا ہے اور ان مقلدین کے بے حرمتی کرنے والوں کو عذاب شدید کی دھمکی دی ہے ۔ البتہ کسی خنزیر، کتے وغیرہ و قلائد بنانے کی اجازت ہرگز نہیں دی ہے۔
نوٹ:(۱) اصول حدیث میں مرسل، مدلس، معضل، وغیرہ جس قدر اصطلاحی الفاظ محدثین نے استعمال کےے ہیں، ان الفاظ کا ان ہی اصطلاحی معنوں میں قرآن وحدیث میں ہونا ثابت فرما دیں یا اصول حدیث کا انکار کر دیں۔
نوٹ: (۲) سائل نے سوال میں صرف قرآن وحدیث کا ذکر کیا ہے معلوم ہوتا ہے کہ سائل اجماع کو دلیل شرعی نہیں مانتا۔ اگر واقعہ ایسا ہے تو سائل انکار اجماع کی وجہ سے دوزخی ہے اور سائل قیاس شرعی کو بھی دلیل نہیں مانتا تو اس کے بدعتی ہونے میں کچھ شک نہیں کیونکہ انکار قیاس کی بدعت نظام معتزلی نے جاری کی تھی۔
ائمہ مجتہدین کے اتباع کےلئے تقلید کا لفظ اسی اجماع اور تواتر کے ساتھ امت میں استعمال ہوتا چلا آرہا ہے جس طرح اصول حدیث، اصول تفسیر، اصول فقہ، قواعد صرف و نحو تواتر کے ساتھ مستعمل ہیں۔ محدیثن کے حالات میں جو کتابیں محدثین نے مرتب فرمائی ہیں وہ چار ہی قسم کی ہیں۔ طبقات حنفیہ، طبقات شافعیہ، طبقات مالکیہ، اورطبقات حنابلہ، طبقات غیر مقلدین نامی کوئی کتاب کسی محدث نے تحریر نہیں فرمائی۔
 کیا قرآن و حدیث میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ چاروں اماموں میں سے کسی ایک امام کی تقلید کرو؟
الجواب قران پاک میں قرآن کی تلاوت کا حکم موجود ہے مگر ان دس قاریوں کا نام مذکور نہیں جن کر قراءتوں پر آج ساری دنیا تلاوت قرآن کر رہی ہے اور نہ یہ حکم ہے کہ ان دس قاریوں میں سے کسی ایک قاری کی قراءة پر قرآن پڑھنا ضروری ہے مگر ہمارے ملک پاک وہند میں سب مسلمان قاری عاصم کوفی ؒ کی قرآة اور قاری حفص کوفی ؒ کی روایت پر قرآن پڑھتے ہیں۔ آپ قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ ساری زندگی ایک قرات پر قرآن پڑھنا کفر ہے یا شرک یا حرام یا جائز۔
اسی طرح کتاب وسنت سے سنت کا واجب العمل ہونا ثابت ہے مگر نام لے کر بخاری ،مسلم، نسائی، ابودادو، ترمذی، ابن ماجہ کو صحاح ستہ نہیں کہا گیا۔ نہ بخاری و مسلم کو صحیحین کہا گیا۔ نہ بخاری کو اصح الکتاب بعد کتاب اﷲ کہا گیا جس طرح ان دس قاریوں کا قاری ہونا اجماع امت سے ثابت ہے، اسی طرح ان چاروں اماموں کا مجتہد ہونا اجماع امت سے ثابت ہے اور مجتہد کی تقلید کا حکم کتاب وسنت سے ثابت ہے۔
نوٹ: سائل نے یہ سوال اصل میں شیعہ سے سرقہ کیا ہے کیونکہ کوئی اہل سنت یہ سوال نہیں کرتا، شیعہ کے ان سوالات کا ذکر ابن تیمیہ ؒ نے منہاج السنہ میں کیا ہے اور بعض کا ذکر شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی ؒ نے تحفہ اثنا عشریہ میں کیاہے۔ اس ملک میں جب انگریز آیا اور اس نے لڑاو اور حکومت کرو کی پالیسی کو اپنایا تو یہاں غیر مقلدین کا فرقہ پیدا ہوا جس کا مشن یہ تھا کہ انگریز کے خلاف جہاد حرام اور مسلمانوں کی مساجد میں فساد فرض۔ یہاں تک کہ سب مسلمان مکہ اور مدینہ کو مرکز اسلام مانتے تھے۔ ان مراکز اسلام سے جب اس فرقہ کے بارے میں فتوی لیا گیا تو انہوں نے بالاتفاق ان کوگمراہ قراردیا۔(دیکھو تنبیہ الغافلین) ان لوگوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے مایوس ہو کر یمن کے زیدی شیعوں کی شاگردی اختیار کی لی اور قاضی شوکانی، امیر یمانی کے افکار کو اپنالیا۔ وہاں سے ہی یہ سوالات درآمد کیے گیے اوراہل اسلام کے دل میں وسوسے ڈالے گئے اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے ۔آج تک اسی بدعتی فرقہ کہ یہ جرات نہیں ہوئی کہ ان سوالات کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مفتی صاحبان کے سامنے پیش کر کے فتوی حاصل کریں کیونکہ ان کو کامل یقین ہے کہ وہاں سے سوالات کا جواب ہمارے خلاف آئے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ شیعہ کو ایسا سوال کیوں کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ شیعہ اپنے بارہ اماموں کو منصوص من اﷲ مانتے ہیں اس لیے اہل سنت و الجماعت نے ان باره کے ناموں کی نص پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ شیعہ اپنے ائمہ کے بارے میں نص پیش نہ کر سکے تو لا جواب ہو کر اہل سنت و الجماعت سے مطالبہ کر دیا کہ تم چاروں اماموں کے نام نص پیش کرو حالانکہ اہل سنت الجماعت ائمہ اربعہ کو منصوص من اﷲ مانتے ہی نہیں تو نص کا مطالبہ ہی غلط ہے ۔ ہاں ہم اہل سنت و الجماعت باجماع امت ان کا مجتہد ہونا مانتے ہیں۔
 چاروں اماموں سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں مثلاً صحابہ کرام ؓ سے لے کر امام ابو حنیفہؒ تک یہ لوگ کس امام کی تقلید کرتے تھے۔ یا اس وقت تقلید واجب نہ تھی؟
الجواب: یہ سوال بھی کسی اہل سنت والجماعت محدث یا فقیہ نے پیش نہیں کیا بلکہ یہ سوال بھی شعیہ کی طرف سے اٹھا تھا۔ صحابہ کرام ؓ کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ شاہ ولی اﷲ ؒ فرماتے ہیں۔ “صحابہ کے دو گروہ تھے۔ مجتہد اور مقلد” (قرة العینین) یہ سب صحابہ ؓ عربی داں تھے لیکن بقول ابن القیم ان میں اصحاب فتوی صرف 149 تھے۔جن میں سے سات مکثرین میں ہیں۔ یعنی انہوں نے بہت زیادہ فتوے دئیے۔20 صحابہ متوسطین میں ہیں۔ جنہوں نے کئی ایک فتوے دیے۔ اور 122 مقلین میں ہیں جنہوں نے بہت کم فتوے دئیے۔ ان مفتی صحابہ کرام ؓ کے ہزاروں فتاوی مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق، تہذیب الآثار، معانی الآثار وغیرہ حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ جن میں مفتی صاحبان نے صرف مسئلہ بتایا، ساتھ بطور دلیل کوئی آیت یا حدیث نہیں سنائی اور باقی صحابہؓ نے بلا مطالبہ دلیل ان اجتہادی فتاوی پر عمل کیا اسی کا نام تقلید ہے۔ ان مفتی صحابہؓ کے بارے میں شاہ ولی اﷲ ؓ فرماتے ہیں:۔
ثم انہم تفرقوا فی البلاد صار کل واحد مقتدی ناحیة منالنواحی
کہ صحابہ متفرق شہروں میں پھیل گئے اور ہر علاقہ میں ایک ہی صحابی کی تقلید ہوتی تھی۔ ( الانصاف ص ۳)
مثلاً مکہ میں حضرت ابن عباس کی، مدینہ میں حضرت زید بن ثابت، کوفہ میں حضرت عبد اﷲ بن مسعود ؓ، یمن میں حضرت معاذ اور بصرہ میں حضرت انس کی تقلید ہوتی تھی۔ پھر ان کے بعد تابعین کا دور آیا تو شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی فرماتے ہیں:۔
فعند ذالک صار لکل عالم من التابعین مدہب علی حیالہ فانتصب فی کل بلد امام
یعنی ہرتابعی عالم کا ایک مذہب قرار پایا اور ہر شہر میں ایک ایک امام ہوگیا۔ لوگ اس کی تقلیدکرتے۔ (الانصاف ص ۶)
صدر الائمہ مکی فرماتے ہیں کہ حضرت عطاءخلیفہ ہشام بن عبد الملک کے ہاں تشریف لے گئے تو خلیفہ نے پوچھا کہ آپ شہروں کے علماءکو جانتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں تو خلیفہ نے پوچھا کہ آپ شہروں کے علماءکو جکانتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ہاں تو خلیفہ نے پوچھا اہل مدینہ کے فقیہ کون ہیں؟ فرمایا نافع، مکہ میں عطا،یمن میں یحییٰ بن کثیر، شام میں مکحول، عراق میں میموں بن مہران، خراسان میں ضحاک، بصرہ میں حسن بصری، کوفہ میں ابراہیم نخعی،(مناقب موفق ص ۷) یعنی ہر علاقہ میں ایک ہی فقیہ کے فقہی فتاوی پر عمل درآمد ہوتا تھا۔ یہ واقعہ امام حاکم نے بھی معرفت علوم حدیث میں لکھا ہے۔ اس لیے امام غرالی ؒ فرماتے ہیں: ”تقلید پر سب صحابہ کا اجماع ہے کیونکہ صحابہ میں مفتی فتوی دیتاتھا اور ہر آدمی کو مجتہد بننے کےلئے نہیں کہتا تھا اور یہی تقلید ہے اور یہ عہد صحابہؓ میں تواتر کے ساتھ ثابت ہے“۔ ( المستصفی ج 2 ص385)
علامہ آمدی فرماتے ہیں صحابہ اور تابعین کے زمانے میں مجتہدین فتوی دیتے تھے مگر ساتھ دلیل بیان نہیں کرتے تھے اور نہ ہی لوگ دلیل کا مطالبہ کرتے تھے اور اس طرز عمل پر کسی نے انکار نہیں کیا، بس یہی اجماع ہے کہ عامی مجتہد کی تقلید کرے۔ شاہ ولی اﷲ ؒ شیخ عزالدین بن سلام ؒ سے نقل کرتے ہیں۔
انا الناس لم یزالوا عن زمن الصحابة ؓ الی ان ظہرت المذاہب الا ربعة یقلدون من اتفق من العلماءمن غیر نکیر میں ایع یعتبر انکارہ، ولو کان ذالک باطلا لا نکروہ (عقد الجید ص 36)
اور خود فرماتے ہیں:۔
فہذا کیف ینکرہ احد مع ان الاستفناءلم یزل بین المسلمین من عہد النبی ﷺ والا فرق بین ان یستفتی ہدا دائما ویستفتی ہذا حینا بعد ان یکون مجمعا علی مادکرناہ (عقد الجید ص39)
یعنی دور صحابہ ؓ وتابعین سے تقلید تواتر کے ساتھ ثابت ہے اور اس دور میں ایک شخص بھی منکر تقلید نہ تھا چونکہ ان صحابہؓ اور تابعین ؒ کی مرتب کی ہوئی کتابیں آج موجودنہیں جو متواتر ہوں۔ہاں ان کے مذاہب کو ائمہ اربعہ نے مرتب کردایا تو اب ان کے واسطہ سے ان کی تقلید ہو رہی ہے جیسے صحابہؓ و تابعین ؒ بھی یہی قران پاک تلاوت فرماتے تھے مگر اس وقت اس کا نام قراة حمزہ نہ تھا۔ صحابہؓ وتابعین ؒ بھی ےہی احادیث مانتے تھے مگر رواہ البخاری اور رواہ مسلم نہیں کہتے تھے۔یہ سوال سائل کا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کیا دس قاریوں سے پہلے قرآن نہیں پڑھاجاتا تھا؟ یا صحابہؓ وتابعین ؒ میں نہ کسی نے بخاری پڑھی نہ مشکوة۔ کیا اس زمانہ میں حدیث کا ماننا اسلام میں ضروری نہ تھا؟
 کیا چاروں اماموں کے بعد کوئی مجتہد پیدا نہیں ہوا ؟ اور اب کوئی مجتہد پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ سوال تاریخ سے تعلق رکھتا ہے۔شاہ ولی اﷲ صاحب محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں۔“300ھ کے بعد کوئی مجتہد مطلق پیدا نہیں ہوا ” اورا مام نوویؒ نے بھی شرح مہذب میں یہی فرمایا ہے ۔ اب مجتہد مطلق کا آنا تو محال شرعی ہے نہ ہی محال عقلی ہاں محال مادی ہے۔ لیکن وہ آ کر کیا کر ے گا؟ کیا اگر آج کا محدث دعوی کر کے ساری صحیح بخاری کو غلط قرار دے اور حدیث اور محدثین کی عظمت کو ختم کرے تو اس سے دین کا کیا فائدہ ہوگا ۔ اسی طرح کو ئی مجتہدین بن کر پہلے سارے علمی سرمائے سے اعتماد ختم کر ے تو کیا فائدہ ہوگا؟
ایک امام کی تقلید واجب ہو نے کے کیا دلائل ہیں؟ اورواجب کی تعریف اور حکم بھی بیان کریں؟
الجواب: اس ملک میں یہ سوال ہی غلط ہے کیونکہ جیسے یمن میں صرف حضرت معاذ مجتہد تھے اور سب لوگ ان کی تقلید کرتے تھے اسی طرح اس ملک میں مدارس، مساجد ، مفتی صرف اور صرف سیدنا امام اعظم ابو حنیفہؒ کے مذہب کے ہیں۔ دوسرے کسی مذہب کے مفتی موجود ہی نہیں کہ عوام ان سے فتوی لیں۔ اس لیے یہاں تو ایک ہی امام کے پیچھے ساری نمازیں پڑھنی واجب ہیں،۱ یک ہی ڈاکٹر ہو سب اسی سے علاج کرواتے ہیں۔ ایک ہی قاری ہو سب اسی سے قرآن پڑھ لیتے ہیں اس لیے یہاں ایک ہی امام کی تقلید واجب ہے جیسے مقدمتہ الواجب واجب کہاجاتا ہے۔ اس کے بغیر دین پر عمل کرنا ناممکن ہے کوئی شخص ایک رکعت نماز بھی نہیں پڑھ سکتا اور تارک اس تقلید کا فاسق ہے ۔ شاہولی اﷲ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں اور صاحب جمع الجوامع فرماتے ہیں کہ ” عامی پر ایک امام کی تقلید واجب ہے“ (عقد الجید ص 50) اور دلیل اس کی اجماع ہے۔ (الاشباة ص143)
 امام ابو بوسفؒ اور امام محمدؒ امام ابو حنیفہؒ کے شاگرد ہیں اور آپ کی تقلید بھی کرتے ہیں مگر انہوں نے بہت سے مسائل میں امام صاحب کی مخالفت کیوں کی؟
الجواب: امام ابو یوسف اور امام محمد یہ دونوں حضرات خود مجتہد فی المذہب ہیں اور مجتہد کو دوسرے مجتہد کی تقلید واجب نہیں ہوتی۔ ہاں اگر اپنے سے بڑے مجتہد کی تقلید کرے تو جائز ہے۔
 کیا کسی امام نے اپنی تقلید کرنے کا حکم دیا ہے؟
الجواب: ائمہ اربعہ کے اقوال مختلف کتابوں میں موجود ہیں جن میں ان حضرات نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہماری ہر اس بات کو مانو جو قرآن وسنت کے موافق ہواور جو خلاف ہو جائے اس کو مت مانو۔ مطلب یہ ہو ا کہ وہ اپنے اقوال کی ترغیب دے رہے ہیں اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ان کے اقوال قرآن وسنت کے موافق ہیں اور قرآن وسنت کی مخالفت نہیں کرتے پس اس سے ان کی تقلید کی حکم ان کے اپنے اقوال سے ثابت ہوا۔
 جو لوگ چاروں اماموں میں سے کسی امام کی تقلید نہیں کرتے۔ ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
الجواب: موجودہ دور میں جو لوگ ائمہ اربعہ میں سے کسی اےک امام کی تقلید نہیں کرتے وہ فافق ہیں۔ اہل سنت والجماعت سے خارج ہیں اور حرمین شریفین کے فتووں کے مطابق ان پرتعزیز واجب ہے۔
مسئلہ تقلید پر بے شمار کتابیں موجود ہیں۔ چند ایک نام لکھ دیتا ہوں۔
(۱)تقلید کی شرعی حیثیت (۲) الکلام المفید فی اثبات التقلید (۳)تقلید ائمہ اور مقام ابو حنیفہؒ
(۴) الاقتصاد (۵) تنقیح (۶) خیر التنقید
(۷) اجتہاد اور تقلید (۸) تقلید شخصی (۹) توفیر الحق
(۱۰) تنویر الحق (۱۱) تحفہ العرب والعجم (۱۲) تقلید اور امام اعظم
(۱۳) سبیل الرشاد (۱۴) ادلہ کاملہ (۱۵) ایضاح الادلہ
(۱۶) مدارالحق بجواب معیاد الحق (۱۷) نتصار الحق بجواب معیار الحق (۱۸) تنقید فی بیان التقلید
وغیر ہ وغیرہ۔

:آخري بات 

جو شخص مجتہد نہ ہو اس پر واجب ہے کہ ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) میں سے کسی ایک کی تقلید واتباع کرے، قرآن، حدیث، اجماع امت اور قیاس چاروں دلیلوں سے اس کا وجوب ثابت ہے، اور ائمہ اربعہ ہی کی تقلید کرنا کوئی امر عقلی یا شرعی نہیں ہے بلکہ اتفاقی ہے، مشیتِ خداوندی سے ان چار مذاہب کے سوا اور جتنے مذاہب تھے سب مندرس يا ختم ہوگئے کیوں کہ دس بیس پچاس یا سو مسائل اگر کچھ مجتہدین سے منقول ہیں تو وہ مستقل مذہب نہیں بن سکتے اور اگر ان سو پچاس مسائل میں ان کی تقلید بھی کرلی تو دیگر مسائل میں کیا کریں گے، جب چاروں مذاہب کے علاوہ کل مذاہب کالعدم قرار پائے تو تقلید ان چاروں مذاہب میں منحصر ہوگئی۔ آپ مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کی تصنیف تقلید کی شرعی حیثیت نیز حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ کی تالیف [اجتہاد وتقلید کا آخر فیصلہ] کتابیں منگواکر خوب اچھی طرح مطالعہ کرلیں۔

معراج الدين ندوي

Wednesday, September 22, 2010

سبحة المرجان في آثار هندوستان

معراج الدين الندوي
سبحة المرجان في آثار هندوستان:
سبحة المرجان في آثار هندوستان:
انَ هذا الكتاب لهو من أهم الأعمال التي كتبها العلامة غلام علي آزادالبلكرامي سنة 1177هجرية في أربعة أبواب وهو أول كتاب عربي يشتمل عليأحوال العلماء والأدباء الهنود،يبحث عن مساهمتهم في مختلف العلوم والفنون ولاسيما في البلاغة والبديع.
فالباب الأول في ذكرمساهمة علماء الهند في كتب التفاسير وفي أحاديث النبي صلى الله عليه وسلم.و ذكر فيه العلامة البلكرامي الأحاديث التي ورد فيها اسم الهند، وكذلك ذكر أقوال المفسرين عن فضائل الهند ..
والباب الثاني يحتوي على سيرة خمسة وأربعين عالم هندي حسب تاريخ وفاتهم، وذكرخدماتهم في اللغة العربية والتربية الإسلامية، وهذا الباب من أهم أجزاء الكتاب و أهم المراجع لتاريخ علماء الهند وفضلاءها، وقد راجع إليه كثير من المحققين و المؤلفين الذين جاؤوا بعده وألفوا كتبا في سيرة العلماء الهنود .
والباب الثالث في ذكر ما للهند من البديع والمحسنات والاستعارات الفريدة النادرة في الأشعار العربية، وقد اعتنى فيه العلامة آزاد بنوع من الابتكار في ذكر الاستعارات الفارسية والسنسكرتية التي دخلت في اللغة العربية .
والباب الرابع في ذكر المعشوقات والعشاق، ذكر فيه المؤلف أقسام العشاق وأنواعهم كما توجد عند الشعراء والأدباء , وكذلك أشار فيه إلى أسباب تجعل ذوق الهنود يختلف في نسيب المرأة بالرجل عن ذوق العرب .

Saturday, September 18, 2010

Meraj ud din nadvi: nadvi para: العدد والمعدود

Meraj ud din nadvi: nadvi para: العدد والمعدود: "nadvi para: العدد والمعدود"

nadvi para: العدد والمعدود

nadvi para: العدد والمعدود

العدد والمعدود

معراج الدين الندوي
جامعة علي كره الاسلامية بالهند 
العدد والمعدود

     1- العدد:
     يكون العدد مفرداً، نحو: سَبْع، ومركَّباً، نحو: سبعَ عشرةَ، ومعطوفاً، نحو: سبع وعشرين(1).
     وقد يوافق العددُ معدودَه في التذكير والتأنيث، وقد يخالفه، ودونك بيان ذلك:
                ¨  الواحد والاثنان، يوافقان المعدود في كل حال، سواء كان ذلك في الإفراد أو التركيب أو العطف، فيقال:
     رجل واحد                 -      امرأة واحدة
     رجلان اثنان               -      امرأتان اثنتان
     أحدَ عشرَ رجلاً            -      إحدى عشرةَ امرأة
     اثنا عشرَ رجلاً            -      اثنتا عشرةَ امرأة
     واحد وعشرون رجلاً     -      إحدى وعشرون امرأة
                ¨  الأعداد من الثلاثة إلى العشرة تخالف المعدود في كل حال، سواء كان ذلك في الإفراد أو التركيب أو العطف، فيقال:
     سبعة رجال               -      سبع فتيات
     سبعةَ عشرَ رجلاً         -      سبعَ عشرةَ فتاة
     تسعة وتسعون رجلاً     -      تسع وتسعون فتاة
     ولا يستثنى من هذا الحكم إلاّ الأعداد الترتيبية، فإنها توافق المعدود في كل حال(2) فيقال: وصل المتسابق السابعَ عشر، والمتسابقة الخامسةَ عشرة.
                ¨  ثمان: يستعمل العدد: [ثمان] - سواء أضيف أو لم يُضف - استعمال الاسم المنقوص.
     ففي حال الإضافة، تقول:
            سافر ثماني نساءٍ     كما يقال: سافر ساعي بريدٍ.
     و: مررت بثماني نساءٍ     كما يقال: مررت بساعي بريدٍ.
     و: رأيت  ثَمانيَ نساءٍ      كما يقال: رأيت ساعيَ بريدٍ.
     وفي حال عدم الإضافة تقول:
     سافر من  النساء  ثمانٍ     كما يقال: سافر من السُّعاة ساعٍ.
     مررت من النساء بثمانٍ   كما يقال: مررت من السعاة بساعٍ.
     رأيت من النساء ثمانياً(3)    كما يقال: رأيت من السعاة ساعياً.
     فإذا كانت [ثمان] في عدد مركب، صحّ أن تستعملها على صورة واحدة، هي صورة [ثماني عشرةَ]، فلا تتغيّر في كل حال، ولا تتبدّل، فيقال مثلاً:
     سافر              ثماني عشْرةَ      امرأة.
     رأيت              ثماني عشْرةَ      امرأة.
     سلّمت على       ثماني عشْرةَ      امرأة.
     2- المعدود:
     الأعداد من 3 ...  إلى 10، معدودُها مجموعٌ مجرور، يقال مثلاً:
     ثلاثة رجالٍ ... وعشر فتياتٍ.
     ومن 11 ....  إلى 99، معدودها مفرد منصوب، يقال مثلاً:
     أحدَ عشرَ          كتاباً
     خمسةَ عشرَ         كتاباً
     عشرون            كتاباً
     تسعة وتسعون     كتاباً
     والمئة والألْف، ومثناهما وجمعهما، معدودها مفرد مجرور، يقال مثلاً:
       [مئةُ كتابٍ، ومئتا كتابٍ، وثلاثُ مئةِ كتابٍ(4)].
     و[ألْفُ كتابٍ، وألْفَا كتابٍ، وثلاثةُ آلافِ كتابٍ(5)].
 
                ¨  تعريف العدد بـ [ألـ]:      
     ليس لتعريف العدد بـ [ألـ] أحكام خاصّة، فهذه الأداة تدخل على أوّل العدد عند تعريفه، مثل دخولها على سائر الأسماء عند تعريفها. ودونك الأمثلة:
     العدد العقديّ: اشتريت العشرين كتاباً.
     العدد المركب: اشتريت الثلاثة عشركتاباً.
     العدد المعطوف: اشتريت الثلاثة والثلاثين كتاباً. (هنا عددان، كلّ منهما مستقل بنفسه - وإن جَمَع بينهما حرف العطف - فحقُّ كلٍّ منهما إذاً أن يكون له تعريفه).

     تنبيه: ليس لتعريف العدد المضاف نحو [خمسة كتبٍ] قاعدة خاصّة، فقد جاء عن فصحاء العرب، إدخال [ألـ] على الأوّل، وعلى الثاني، وعلى الاثنين معاً؛ فجاز أن يقال مثلاً: [اشتريت خمسةَ الكتبِ، والخمسةَ كتبٍ، والخمسةَ الكتبِ](6).

     أحكام:
                ¨  العدد المركَّب: لا يكون إلاّ مفتوح الجزأين، نحو: [أربعَ عشرةَ، وأربعةَ عشرَ، والسابعَ عشرَ، والسابعةَ عشرةَ]. إلاّ ما كان جزؤه الأوّل مثنى، فيُعامل معاملة المثنى، نحو: [سافر اثنا عشر رجلاً، واثنتا عشرة امرأة، ورأيت اثني عشر مودِّعاً، مع اثنتي عشرة مودِّعةً]. أو كان جزؤه الأول منتهياً بياء، فتبقى على ما هي، نحو: [الحادي عشر، والثاني عشر].
 
                ¨  عشر: في العدد المركَّب، تُوافِق المعدود قولاً واحداً، فيقال: [تسعة عشَر رجلاً، وتسع عشْرة امرأةً].
     وأمّا شِينها فتُفتح مع المذكر، وتُسكَّن مع المؤنث، سواء كان ذلك في عدد مفرد أو مركَّب.
                ¨  بضع: كلمة تدل على عدد غير محدد، غير أنه لا يقلّ عن ثلاثة ولا يزيد على تسعة، ولذلك تُعامل معاملة هذه الأعداد، فتذكَّر مع المؤنث، وتؤنث مع المذكر، [أي: تخالف معدودها]، فيقال مثلاً: [بضعة رجال، وبضع نساء]. وتُركَّب تركيب هذه الأعداد، فيقال: [بضعةَ عشَرَ رجلاً، وبضع عشْرةَ امرأةً].
                ¨  إذا اشتمل المعدود على ذكور وإناث، روعي الأول نحو: [سافر خمسة رجالٍ ونساءٍ، وزارنا خمس نساءٍ ورجال].
                ¨  تُقرأ الأعداد من اليمين إلى اليسار، ومن اليسار إلى اليمين، فيقال مثلاً: [هذا عامُ ستةٍ وتسعين وتسع مئةٍ وألف]، كما يقال: [هذا عام ألفٍ وتسعِ مئةٍ وستةٍ وتسعين]. فكلاهما فصيح، والمتكلِّم بالخيار.
                ¨  في تذكير العدد وتأنيثه، يُراعى مفرد المعدود. يقال مثلاً: [خمسة رجال]، لأن المفرد: [رجل]، و [خمس رقاب]، لأن المفرد: [رقبة].
                ¨  إذا قيل مثلاً: [خالدٌ سابعُ سبعةٍ سافروا]، فالمعنى: أنّ الذين سافروا سبعة، منهم خالد. فإذا أُريد الترتيب والتسلسل، قيل: [خالدٌ سابع ستةٍ سافروا]، أي: هو السابع في تسلسل سفرهم وتتابعه.

*        *        *

نماذج فصيحة من استعمال العدد
  ·  تُقرأ الأعداد من اليمين إلى اليسار، ومن اليسار إلى اليمين:
   ·   قال ابن عباس (جمهرة خطب العرب 1/417): [يا أهل البصرة... أمرتكم بالمسير مع الأحنف بن قيس، فلم يشخص إليه منكم إلاّ ألفٌ وخمس مئة، وأنتم في الديوان ستون ألفاً]. وهاهنا مسألتان:
     1- تُقرأ الأعداد من اليمين إلى اليسار، ومن اليسار إلى اليمين، وكلا الاستعمالين فصيح، والمرء بالخيار، وقد اختار ابن عباس - كما ترى - البدء من اليسار، فقال: [ألف وخمس مئة].
     2- الأعداد من 11... إلى 99 معدودها مفرد منصوب، فـ [ستون] أحد هذه الأعداد، و[ألفاً] معدودُه، وقد جاء في كلام ابن عباس - كما رأيت - مفرداً منصوباً، على المنهاج.
   ·   والطبريّ أيضاً على التأريخ من اليسار إلى اليمين:
     فقد بدأ التأريخَ في الصفحة /10/ من كتابه، فقال وهو يورد ما قيل في عمر الدنيا: [فقد مضى (أي مضى من عمر الدنيا) ستة آلاف سنة ومئتا سنة].
     وقال في الصفحة /17/: [كان قدر ستة آلاف سنة وخمس مئة سنة].
     و قال في الصفحة / 18/: [خمسة آلاف سنة وتسع مئة سنة واثنتان وتسعون سنة]. وفي الصفحة نفسها يقول: [ثلاثة آلاف سنة ومئة سنة وتسع وثلاثون سنة].
     وقال عن الطوفان في الصفحة /211/: [وذلك بعد خلق آدم بثلاثة آلاف وثلاث مئة سنة وسبع وثلاثين سنة].
   ·   ]يا أبت إني رأيت أحدَ عشَرَ كوكباً[ (يوسف 12/4)
     [أحدَ عشَرَ] عددٌ مركّب، وهو مفتوح الجزءين، شأن كل عدد مركب؛ ومعدوده: [كوكباً] مفرد منصوب، على المنهاج.
   ·   ]الذين قالوا إنّ الله ثالث ثلاثة[ (المائدة 5/73)
     الترتيب والتسلسل والتتابع غير مرادة في الآية، وإنما المراد أنهم قالوا: إنّ الله تعالى واحد من ثلاثة. ولو كان الترتيب مراداً لقالوا: إنه ثالث اثنين. وانظر إلى ما جاء في صحيح البخاري (6/556) تجد المسألة على أوضح الوضوح. فدونك النصّ الحرفي، كما ورد فيه: [عن... خرجت رابع أربعة من بني تميم أنا أحدهم، وسفيان بن مجاشع، ويزيد بن عمرو بن ربيعة، وأسامة بن مالك بن حبيب بن العنبر، نريد ابن جفنة الغسّانيّ بالشام فنَزلنا على غدير...]. ولو أراد الترتيب لقال: [خرجت رابع ثلاثة] أي: تَقَدَّمَه الثلاثةُ، ثم خرج هو بعدهم، فكان رابعاً.
   ·   ]إذ أخرجه الذين كفروا ثاني اثنين إذ هما في الغار إذ يقول لصاحبه... [        (التوبة 9/40)
     الآية شاهد ثانٍ على أنّ هذا التركيب، لا يدلّ على ترتيب وتسلسل وتتابع. وذلك أن الذين كفروا لم يُخرجوا الرسول من مكة بعد أن أخرجوا صاحبه منها، فيكون هو الثاني، ويكون صاحبُه الأوّلَ !! بل أخرجوه وصاحبَه معاً، لا سابق ولا مسبوق. فحاقُّ المعنى إذاً أنهما اثنان هو أحدهما.
   ·   ]ما يكون من نجوى ثلاثة إلاّ هو رابعُهُم ولا خمسةٍ إلاّ هو سادسُهُم[         (المجادلة 58/7)
     الترتيب في الآية هاهنا مرادٌ مقصود، والمعنى: أنه جاعل الثلاثة أربعة، وجاعل الخمسة ستة. ونعتقد أنّ الفرق بين التركيب ومعناه في هذه الآية، وفي الآيتين السابقتين، أصبح فرقاً واضحاً جليّاً.
   ·   ]فاجلدوا كلَّ واحدٍ منهما مئةَ جَلدةٍ[ (النور 24/2)
     معدود المئة والألف ومثناهما وجمعهما، مفردٌ مجرور. فاستعمال كلمة: [جلدةٍ] في الآية - وهي المعدود - مفردةً مجرورةً بعد المئة - جاء إذاً على المنهاج.
   ·   ]يودُّ أحدُهُم لو يُعَمَّرُ ألفَ سنةٍ[ (البقرة 2/96)
     يصحّ أن يقال في الآية هنا، ما قيل في الآية السابقة، فمعدود المئة والألف ومثناهما وجمعهما، مفردٌ مجرور. ومن ثم يكون استعمال كلمة: [سنةٍ] - مفردةً مجرورةً بعد الألف - جاء إذاً على المنهاج.
   ·   تعريف العدد المضاف بـ [ألـ]، كل صوره جائزة بلا قيد:
     ففي الحديث (مسلم 9/10): [أنّ رسول الله صلى الله عليه وسلّم رَمَلَ الثلاثة أطوافٍ من الحجر إلى الحجر]. وقد أورد النوويّ هنا، روايتين أخريين للحديث هما: [الثلاثة الأطواف وثلاثة أطواف] ثم استأنف فقال: [وقد سبق مثلُه في رواية سهل ابن سعد في صفة منبر النبي صلى الله عليه وسلّم قال: فعمل هذه الثلاث درجات...].
     وقد جَمعتْ هذه الأسطر القليلة ثلاثة استعمالات من العدد المضاف هي: [ثلاثة أطواف، والثلاثة أطواف، والثلاثة الأطواف]، يضاف إليها استعمالٌ رابع، هو تعريف المضاف إليه بالألف واللام، أي: [ثلاثة الأطواف]. وهو الأفشى.
     وفي الحديث أيضاً (البخاري 3/71 باب استعانة اليد في الصلاة): قال ابن عباس: [فجلس فمسح النومَ عن وجهه بيده، ثم قرأ العشر الآياتِ خواتيمَ سورة آل عمران].
     وفي الحديث كذلك، عن أبي هريرة (البخاري 4/469 باب الكفالة في القرض والديون): [كنت تسلّفتُ فلاناً ألف دينار... فأتى بالألف دينار... فانصرِفْ بالألف الدينار راشداً].
   ·   قال أبو عبيد (تفسير القرطبي 1/416): [لم يُسمع في فَعَل وفِعْل غير هذه الأربعة الأحرف].
   ·   وفي (تاريخ الطبري 1/50): [خَلَقَ في أوّل الثلاث ساعات...].
     وعن ابن عباس أنه قال (تاريخ الطبري 1/59): [الستة الأيام التي خلق الله فيها السماوات والأرض].
      وعن مجاهد أنه قال (تاريخ الطبري 1/60): [يومٌ من الستة الأيام، كألف سنة مما تعدّون].
     ويخلص المرء من هذه الأمثلة إلى أن تعريف العدد المضاف بالألف واللام لا يقيِّده قيد، وأنه من السهولة بحيث يستعمله المرء بغير تفكير فلا يخطئ.
   ·   ]إنّ عِدَّة الشهور عند الله اثنا عشَرَ شهراً[ (التوبة 9/36)  
     [اثنا]: الواحد والاثنان يوافقان المعدود في كل حال، والمعدود في الآية مذكر: [شهر]، وقدجاء العدد [اثنا] مذكّراً - على المنهاج - موافَقَةً للمعدود.
     [عشَرَ]: حكمها في العدد المركب، أن توافق المعدود، وقد وافقته في الآية، فجاءت مذكرةً مثلَه، وفُتحت شينها، والقاعدة أن تُفتح مع المذكّر.
   ·   ]إنّ هذا أخي له تسعٌ وتسعون نعجة[ (ص 38/23)          
     [تسع]: عددٌ مذكر، ومعدودُه [نعجة] مؤنث. وذلك أن الأعداد من الثلاثة إلى العشرة - وتسعٌ منها - تخالف المعدود في كل حال، سواء كان ذلك في الإفراد أو التركيب، أو العطف. والذي في الآية من الصنف الثالث، أي: [العطف]، فتذكير العدد [تسع] جاء - إذاً - على المنهاج.

*        *        *

 


2- السرّ في أن العدد الترتيبي لا يكون إلاّ موافقاً للمعدود، هو أن العدد الترتيبي لا يكون إلاّ نعتاً لمعدوده، ومن المعلوم أن النعت يطابق المنعوت - قولاً واحداً - فلا يصح في العبارة الآتية - مثلاً - إلاّ أن تقول: فاز المتسابق الرابع عشر، والمتسابقة الرابعة عشرة. فيتطابق المذكران، ويتطابق المؤنثان...
5- من العجائب: اِعلمْ أن الأميين وصغار الصبيان أيضاً، يستعملون المعدود - من حيثُ الجمع والإفراد - استعمالاً صحيحاً فصيحاً، فيأتون به مفرداً، حيثُ يجب إفراده، ومجموعاً حيثُ يجب جمعه، فتغنيهم سليقتهم عن كل هذا الذي فصّلنا القول فيه، واخترنا الأمثلة له !! ومَن وجد في نفسه شيئاً مِن قولنا هذا، فلْيجرِّبْ.