Powered By Blogger

Saturday, December 18, 2010

کامیاب عورت“کا مغربی اور اسلامی نقظہ نظر


کامیاب عورت“کا مغربی اور اسلامی نقظہ نظر

گزشتہ صدی سے یہ موضوع مسلسل زیرِ بحث ہے کہ معاشرے میں ” کامیاب عورت“ کون ہوتی ہے؟ مغربی معاشرے میں اُس خاتون کو ”کامیاب عورت“ قرار دیا جاتاہے جو کامیاب معاش رکھتی ہو، جو مالی طور پر خود مختار ہو اور جو گھر اور کارکی مالک ہو۔ لہٰذا ایسی خواتین اس معاشرے میں رول ماڈل (Role model)کے طور پر جانی جاتی ہیں جو مذکورہ بالا معیار پر پوری اترتی ہوں۔ چنانچہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی بیوی اوربظاہر چار بچوں کی ماں چیری بلیئر جو ایک کامیاب وکالت کا کیرئیر(Career) رکھتی ہے ، اس کا ذکر اکثر رول ماڈل کے طور پر کیا جاتاہے۔
اسی طرح اُس معاشرے میں یہ رائے بھی عام ہے کہ باپ یا شوہر پر انحصار کرنا عورت کو معاشرے میں کم تر درجے کا مالک بنا دیتا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جاتاہے کہ وہ عورت جو ماں یا بیوی ہونے کے ساتھ کوئی بھی ذریعہ معاش نہیں رکھتی اس کی کوئی اہمیت نہیں یا یہ کہ وہ ایک ناکام عورت ہوتی ہے۔ اسی لیے اُس معاشرے میں جب کسی عورت سے یہ سوال کیا جاتاہے کہ ”آپ کا پیشہ کیا ہے؟“ یا ”آپ کیا کرتی ہیں؟“ تو وہ یہ جواب دیتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتیں ہیں کہ” میں صرف ماں ہوں“ یا ”میں ایک گھریلو خاتون ہوں“۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں ایک پیشہ ور خاتون کو مالِ جنس (Commodity) کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کی اہمیت کا دارومدار اِس چیز پر ہے کہ وہ معیشت میں کتنا حصہ ڈال رہی ہے۔
اسی طرح مغربی معاشرے میں تذکیروتانیث کا معاشرے میں کردار کے حوالے سے بہت بڑی تبدیلی آئی ہے کہ ایک خاندان میں عورت کو بھی کمانے کا اتنا ہی حق ہونا چاہیے جتنا کہ مرد کو۔ چنانچہ 1996 میں کیمبرج یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق لوگوں کی اس بارے میں رائے کہ یہ صرف مرد کا کام ہے کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرے، 1984میں 65فیصد تھی جو کہ 1994میں کم ہوکر 43فیصد رہ گئی۔ اس وقت برطانیہ میں 45فیصد خواتین کام کرتی ہیں اور امریکہ میں 78.7فیصد خواتین کام کرتی ہیں۔
جبکہ مغربی حکومتیں کامیاب عورت کے اس معیار کی حوصلہ افزائی کرتی نظر آتی ہیں۔ لہٰذا ایسی عورتوں کی تعریف کی جاتی ہے جو کہ اپنی اس زندگی میں ایک کامیاب کیرئیر حاصل کرچکی ہوں۔ مزید برآں ایسی ماﺅں کے لیے معاشی فوائد کا اعلان بھی کرتیں ہیں جو کام کرنے والوں میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔ چنانچہ موجودہ برطانوی حکومت نے ایک پالیسی بعنوان ”قومی سٹریٹیجی برائے بچوں کی دیکھ بھال“ متعارف کرائی ہے کہ جس کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال کے لیے بہت سی جگہیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ عورتیں جو کام کرتی ہیں اپنے بچوں کو دیکھ بھال کے لیے ان جگہوں پر چھوڑ سکیں۔ اسی طرح انہیں مالی فوائد اور ٹیکس میں چھوٹ بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال پر اٹھنے والوں اخراجات کو برداشت کرسکیں۔ چنانچہ ”Full Time Mothers“ نامی تنظیم کا سربراہ جِل کِربی کہتا ہے کہ ” ایسی عورتوں کے لیے مالی فوائد ہیں جو کام کرتی ہیں لیکن گھر بیٹھی عورتوں کے لیے کوئی مالی فائدہ نہیں“

بدقسمتی سے وہ مسلم خواتین جو مغرب میں رہ رہی ہیں وہ اس سوچ سے بہت متاثر ہوئی ہیںکہ اپنی اس زندگی میں ایک کامیاب کیرئیر حاصل کرنا باقی تمام مقاصد سے بڑھ کر ہے۔ وہ بھی اب یہ یقین رکھتی ہیں کہ یہ کیرئیر ہی ہے جو کہ عورت کو معاشرے میں مقام اور عزت بخشتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شادی دیر سے کرتی ہیں یا وہ شادی کرتی ہی نہیںکیونکہ وہ شادی کو اپنے کیرئیر کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہیں۔ وہ بچوں کی پیدائش بھی دیر سے کرتی ہیں اور تھوڑے بچے پیدا کرتی ہیں یا بچے پیدا ہی نہیں کرتیں۔ اور وہ خواتین جو کوئی کام نہیں کرتیں وہ اپنے معاشرے کی طرف سے مستقل دباﺅ کا شکار رہتی ہیں کہ انہیں بھی کوئی کام کرنا چاہیے۔ چنانچہ وہاں پر موجود مسلمانوں کی بڑی تعداد اس سوچ سے متاثر ہوچکی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کو کامیاب کیرئیر اختیار کرنے کی ترغیب دیتے ہیں، جبکہ ممکن ہے کہ وہ لڑکی جلدی شادی کرنے کے حق میں ہو اور ماں کا کردار نبھانے کو ترجیح دیتی ہو۔

”کامیاب عورت“ کے اس مغربی معیار کا اسلامی دنیا پر اثر:

مغرب چاہتا ہے کہ مسلمان اُن کے دئیے ہوئے معیارات پر اپنی زندگی کو پرکھے۔ چنانچہ میڈیا کے ذریعے وہ مغربی طرزِ زندگی کو پھیلانے کے لیے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ جس کا اثر یہ ہوا ہے کہ مسلم ممالک میں بھی یہ رائے پھیلتی چلی جارہی ہے کہ کامیاب خاتون وہ ہے جس کا اپنا ایک کیرئیر ہو۔ حال ہی میں ایک میگزین Working Mothers میںافغان عورتوں کے حوالہ سے ایک مضمون شائع ہوا ہے ، جس میں لکھا ہے کہ ”بہت سی خواتین معاشی ضرورت کے تحت کام کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ لیکن افغان خواتین کا ایک بڑھتا ہوا گروہ اپنے کیرئیر کے دوبارہ حصول کی کوشش کررہاہے۔ تاکہ وہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکے، جس کو وہ طالبان کی حکومت کے دوران چھوڑنے پر مجبور تھیں“ اس مضمون میں ایک لڑکی کا انٹرویو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ وہ افغان خواتین کی اپنے حقوق کی لڑائی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ وہ لڑکی کہتی ہے کہ”میں نے ان خواتین کو بتایا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوں کیونکہ تم مردوں کے برابر ہو“ وہ مزید کہتی ہے کہ میں نے انہیں کہا کہ ”برقعے میں مت بیٹھو ، گھروں میں مت بیٹھی رہو، باہر نکلواور اپنے بچوں اور خاوند کو یہ ثابت کرکے دکھاﺅ کہ تم ایک عورت ہو، تم ہر کام کرسکتی ہو اور اپنے فیصلے بھی خود کرسکتی ہو“

مزید یہ اسلامی دنیا میں ایسے تصورات کو پروان چڑھانے کے لیے UNIFEM، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام(UNDP)، اقوام متحدہ کا فنڈ برائے آبادی(UNPF) اور دوسرے غیر سرکاری ادارے حوصلہ افزائی کرتے نظر آتے ہیں۔ 2001 میں UNDPکی طرف سے پاکستان میں ”میڈیا میں عورت کو کیسے پیش کیا جائے“ کے عنوان سے ایک سروے کیا گیا جس میں یہ رائے دی گئی کہ ٹی وی کے ڈراموں اور پروگراموں میں خواتین کو بہادر اور پرُاعتماد کردار میں دکھایا جانا چاہیے اور اس سوچ کو ختم کیا جانا چاہیے کہ ایک کامیاب کیرئیر کی حامل خاتون آئیڈیل بیوی یا ماں نہیں بن سکتی۔

”کامیاب عورت“ کے مغربی معیار کا اصل ماخذ:

یہ سوچ کہ کامیاب کیرئیر کی حامل خاتون ہی ”کامیاب عورت“ ہوتی ہے ، سرمایہ دارانہ نظام سے لیا گیا ہے۔ جس میں مادی فائدے اور نفع کی بنیاد پر کامیابی کو جانچا جاتا ہے۔ چنانچہ وہ خاتون جو کاروبار کرتی ہے، ڈاکٹر ہے، وکیل ہے یا وہ اکاونٹنٹ ہے تو وہ کامیاب عورت ہے۔ کیونکہ یہ معاشی لحاظ سے معاشرے میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ چاہے وہ یہ حصہ خدمات کی شکل میں دے رہی ہو یا پھر ٹیکس کی شکل میں حکومت کو ادا کررہی ہو۔ اسی طرح ان کے نزدیک ایک گھریلو ماں یا بیوی معاشرے میں کوئی حصہ نہیں ڈال رہی ہوتی۔ اس لیے اسے منفی نقطہ نگاہ سے دیکھا جاتاہے نہ کہ کامیابی کی علامت کے طور پر۔ 2002 میں انسٹیوٹ آف فسکل سٹڈیز(حکومتِ برطانیہ کا مشاورتی ادارہ) نے ایک رپورٹ جاری کی، جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا کہ ”بچوں کی موجودگی ماں کے لیے روزگار کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور بچوں کی دیکھ بھال کی قابلِ برداشت اور آسان رسائی کی کمی کی وجہ سے ماں کی کمائی پر الٹا اثر پڑا ہے۔ صاف گوئی تو یہ ہے کہ موجودہ سٹریٹیجی کام نہیں کررہی اور اس کا خمیازہ معاشی نقصان کی شکل میں موجود ہے“

تذکیروتانیث کا معاشرے میں کردار کی جو نئی تعریف کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک خاتون چاہے وہ ماں ہو یا بیوی اسے اپنا کیرئیر جاری رکھنے کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا کہ ایک مرد کو شوہر یا باپ ہونے کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ یہ تعریف مرد اور عورت کی برابری کے مغربی تصورات سے لی گئی ہے۔ یہ تصور یوں ہے کہ یہ دیکھنے کی بجائے کہ معاشرے میں عورت اور مرد کوکیسے دیکھا جاتاہے بلکہ دونوں کا کردار برابر ہونا چاہیے اور اس کا فیصلہ انفرادی ہونا چاہیے۔ اسی سے یہ نکلتاہے کہ عورت کو مرد کے برابر روزگار کی فراہمی کا حق ہونا چاہیے اور خواتین وہ کام اور نوکریاں بھی کرسکتی ہیںجو مرد کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ اپنی شادی سے متعلق معاملات کا فیصلہ بھی خود کرے یعنی کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال کرے گی یا کمائے گی۔ برابری کا یہ تصور اپنے اندر ایک ظالمانہ روش رکھتا ہے جو کہ انسانی عقل سے بنائے گئے سرمایہ دارانہ نظام میں عورت کو بھگتنا پڑتاہے۔

یہ تصور اس متعصب ماحول کی پیدا وار ہے جب انگریز معاشرے میں عورت کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتاتھا اور عورت انتہائی مشکل زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔ حتیٰ کہ 1850ءتک انگریز قوانین کے تحت عورت کو شہری تک تصور نہیں کیا جاتاتھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواتین کے حقوق اوران کے لیے برابری کے حق کے لیے آواز بلند کی گئی اس یقین کے ساتھ کہ عورت صرف اسی طرح بہترمعیار زندگی حاصل کرسکے گی جب اس کا اپنا کیرئیر ہوگا، وہ مالی طور پر خودمختار ہوگی اور معاشرے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرے گی۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد کام کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کی گئی تاکہ وہ ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالیں۔ مغربی طاقتوں نے عثمانی خلافت کے اندر بھی عورتوں کے حقوق اور برابری کی آواز اٹھائی جس کا مقصد عورتوں کا معیارِ زندگی بلند کرنے کی بجائے اسلامی ریاست پر کاری ضرب لگانا تھا۔ مغربی مصنف برنارڈلیوس اپنی کتاب ”The Middle East“کے باب ”آزادی سے آزادی تک“ میں رقمطراز ہے کہ ”عورتوں کی آزادی کی ایک بڑی وجہ معاشی ضرورت تھی...معیشت کے اندر جدت پسندی زنانہ لیبر کی ضرورت کو سامنے لائی اور جسے جدید جنگ میں فوجی بھرتی کی وجہ سے کافی بڑھاوا دیا گیا... عورتوں کی معیشت میں شمولیت اور معاشرتی تبدیلیاں اسی کا نتیجہ ہیں جو جنگ کے دوران اور بعد میں بھی جاری رہیں بلکہ اسی وجہ سے عورتوں کے حق میں قانونی تبدیلیاں بھی کردی گئیں۔ یہ کچھ حد تک معاشرتی اور خاندانی زندگی پر اثر انداز بھی ہوئیں ہیں“

”کامیاب عورت“ کے اس نقطہ نظر کا خاندانی ڈھانچے پر اثر:

کیرئیر کی تلاش کو عورت کی زندگی کا اصل مقصد بنا دینے کی وجہ سے مغربی معاشرے میں بہت سے مسائل نے جنم لیا ہے، خصوصاً اس کی وجہ سے خاندانی ڈھانچے پر نہایت ہی مہلک اثر ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے شادی شدہ زندگی میں تناو پیدا ہورہا ہے اور چونکہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے ساتھ کم وقت گزارتے ہیں ، اس لیے طلاق کی شرح میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ اس نظریہ کی وجہ سے بچوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے اور والدین کا اپنے بچوں کے ساتھ کم وقت گزارنے کی وجہ سے بچوں اور والدین کے درمیان تعلقات میں سنگین قسم کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔

یہ مسائل ان مسلم خاندانوں پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں جو اس نظریے سے مرعوب ہوچکے ہیں۔ شوہر اور بیوی کے کردار کی صحیح وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان بحث ومباحثہ جاری رہتاہے اور یہی بحث بالآخر طلاق کا باعث بن جاتاہے۔ بچوں کے معاملے میں ماں اور بچے کا جو قریبی تعلق ہوتاہے اور جسے مزید پروان چڑھنا چاہیے لیکن اس نظریے کی وجہ سے ماں کی طرف سے بچے کی پرورش اسلامی تہذیب کے مطابق نہیں ہوپاتی۔ اس کی وجہ ماں کا بچے کے ساتھ کم وقت گزارنا ہے اور والدین اپنا کیرئیر بنانے کے چکر میں بچوں کو ایسی جگہوں پر داخل کرادیتے ہیں جہاں ان کی غیر موجودگی میں بچوں کی دیکھ بھال ہوتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بچے غیر اسلامی شناخت اختیار کرلیتے ہیں۔ والدین کا کہنا نہ ماننا، انہیں نظر انداز کرنا، شراب پینا اور منشیات کا استعمال جیسے بُرے کام مغربی معاشرے میں موجود ان مسلم خاندانوں میں عام ہےں جہاں ”کامیاب عورت“ کا یہ نظریہ اپنایا جارہاہے۔
”کامیاب عورتوں“ کی خستہ حالی:
وہ لوگ جنہوں نے اصل میں خواتین اور مردوں کے درمیان برابری کا تصور دیا ہے ان کا یقین ہے کہ برابری کا یہ تصور خواتین کو ان کی خستہ حالی سے باہر نکالتاہے۔ وہ خستہ حالی جس میں مغربی عورت کئی سالوں سے مبتلا تھی اور جسے ریاست کا شہری تک تصور نہیں کیا جاتاتھا۔ تاہم اس تصور کو اپنانے کے بعد بھی کام کرنے والی عورتیں کوئی کم خستہ حال نہیں ہیں، بس وجوہات مختلف ہیں۔ بچوں کی پیدائش میں دیر یا بچے پیدا ہی نہ کرنا یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کیونکہ کیرئیر اس بات سے متفق نہیں کہ تولیدی جبلت ہر عورت میں پائی جاتی ہے بلکہ اس کے نزدیک یہ جبلت خستہ حالی کا باعث ہے۔ وہ کیرئیر وویمن جن کے بچے ہوتے ہیں وہ اپنے بچوں کے ساتھ کم وقت گزارنے کی وجہ سے مستقل طور پر ندامت محسوس کرتی رہتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ خود کو بیوی، ماں اور کام کے درمیان بہت زیادہ مصروف پاتی ہے۔ بہت سے گھروں میں ایک کیرئیر وویمن اپنی گھر کی ذمہ داریوں کو کم نہیں کرپاتی۔ وہ اپنے کیرئیر کو جاری رکھنے کے لیے کام کرتی ہے لیکن گھر کے کام ایسی نوعیت کے ہوتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے آپ سے جدا نہیں کرپاتی۔

چنانچہ خواتین کا سارا دن ایک کام سے دوسرے کام کو کرتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ اپنی فیملی کے لیے ناشتہ تیار کرنا، شوہر اور بچوں کے لیے لنچ تیار کرنا، بچوں کو تیار کر کے سکول بھیجنا، اپنی نوکری کے لیے جانا، دفتر میں پورا دن کام کرنا، پھر سکول سے بچوں کو لینے جانا، رات کا کھانا تیار کرنا، بچوں کا بستر تیار کرنااور اگلے دن کی تیاری کرنا۔ وہ یہ محسوس کرتی ہیں کہ وہ اپنا کوئی بھی کام بہتر طور پر نہیں کرپاتیں، کیونکہ ایسی خاتون بہت زیادہ تھکاوٹ اور ٹینشن محسوس کرتی ہے۔ ایک مغربی مصنفہ Lisa Belkinاپنی کتاب "Life's work: Confessions of an unbalanced Mom" میں لکھتی ہیں کہ ”ہم میں سے کوئی ایک خاتون بھی 100فیصد وقت اپنی نوکری کو نہیں دے سکتی ، نہ 100فیصد اپنی فیملی کو دے سکتی ہیں اور نہ ہی 100فیصد خود اپنے لیے نکال سکتی ہیں“ یہ ان کامیاب عورتوں کی خستہ حالی نہیں تو کیا ہے؟ مغرب نے آزادی کے نام پر اسے ایک معاشی جنس بنا کر رکھ چھوڑا ہے۔

برابری کے تصور کی حقیقت:

یہ تصور کہ معاشرے میں تذکیروتانیث کی برابری خواتین کے لیے ترقی کی راہ متعین کرتا ہے ایک فاش غلطی ہے۔ انسان کے بنائے ہوئے کسی بھی نظام میں انفرادی لحاظ سے سب کو برابری کا حق دینا ممکن نہیں چاہے یہ مرد اور عورت کے درمیان ہویا کالے اور گورے کے درمیان یا پھر جوان اور بوڑھے کے درمیان، کیونکہ انسان جب بھی خود قانون بناتا ہے وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں 30سال سے برابری کے حوالے سے قانون موجود ہیں لیکن ان معاشروں میں خواتین مردوں کے جیسا کام کرنے کے باوجود کم تنخواہ لیتی ہیں۔ یہ اس چیز کو واضح کرتا ہے کہ پوری صدی میں خواتین کے حقوق اور برابری پر بات کی گئی اور پھر بھی بیسویں صد ی میں برطانیہ میں صرف 4فیصد خواتین جج کے عہدے پر فائز تھیں، 11فیصد مینجر اور FTSEکی 100میں سے 2 خواتین ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھیں۔

مزید یہ کہ مرد اور عورت پر برابری کیسے لاگو ہوسکتی ہے جو جسمانی اور اعضائی لحاظ سے فطری طور پر ہی مختلف ہیں۔ جیسا کہ ایک مصنف لکھتاہے کہ ”برابری کے اس تصور میں ایک فطری دباﺅ موجود ہے، جو پہلے سے ہی فرض کرلیتا ہے کہ اس میں یکسانیت ہے۔“ یہ ایسا ہی ہے کہ یہ تجویز کرلینا کہ سورج اور زمین چاہے فطرت میں اختلاف ہی کیوں نہ رکھتے ہوں لیکن ان کا کام ایک جیسا ہونا چاہیے جب زندگی میں کردار اور کام اس طرح سے طے کیے جائیں جس میں مرد اور عورت کی فطرت میں اختلاف کو بروئے کار نہ لایا جائے تو یہ فیصلہ مصیبت اور خستہ حالی کاسبب بنتا ہے جیسا کہ پیچھے بیان کیا جاچکا ہے۔

اسلام اور ”کامیاب عورت“ کا صحیح تصور:

اسلام کسی عمل، کام یا شخص کو اس بنیاد پر نہیں جانچتا کہ وہ ریاست کی معیشت میں کتنا حصہ ڈال رہا ہے۔ اسلام کسی مرد یا خاتون کو جانچنے کا پیمانہ یہ بتاتا ہے کہ ان کے اعمال اللہ کے حکم کے مطابق ہیں یا نہیں اور ان کے تقویٰ کا معیار کیا ہے؟ حضور ا نے اپنے آخری خطبہ حج میں فرمایا: ”کسی عربی کو عجمی پر اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی برتری حاصل ہے اور نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ ہی کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی برتری حاصل ہے، سوائے تقوی اور اصل اعمال کی بنیاد پر “ اس لیے کامیاب عورت وہ ہے جو کہ پُرخلوص ہوکر اللہ کے احکامات کی پیروی کرے، اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ یہ ہمارے اعمال ہی ہونگے جو مرنے کے بعد ہمارے لیے جنت یا دوزخ کا فیصلہ کرائیں گے۔ یہی کامیابی کا صحیح معیار ہے۔

اسلام دینِ فطرت ہے چنانچہ جن معاملات میں مرد اور عورت کی فطری صلاحتیں ایک جیسی ہیں، ان معاملات میںاسلام نے ان پر فرض بھی ایک جیسے عائد کیے ہیں، جیسے نماز، روزہ، حج وغیرہ۔ تاہم جہاں فطرت میں فرق پایا جاتا ہے تو وہاں فرائض بھی مختلف عائد ہوتے ہیں، اس لیے خاونداور باپ پر فرض ہے کہ وہ اپنے خاندان کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرے اور مالی طورپر ان کی کفالت کرے۔ جبکہ عورت کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ اپنے خاوند اور بچوں کی دیکھ بھال کرے، ان کی فلاح وبہبود کا خیال رکھے اور اپنے بچوں کی پرورش اسلامی تہذیب کے مطابق کرے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

”مرد عورتوں پر حاکم ہیںاس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے کہ مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ، پس نیک فرمانبردار عورتیں خاوند کی عدم موجودگی میں بہ حفاظت الٰہی نگہداشت رکھنے والی ہیں“ (النسائ:34)
اللہ نے مردوزن کی ذمہ داریاں بانٹ دیں۔ چنانچہ اسلام نے مرد پر جو ذمہ داری عائد کی ہے وہ ماں یا بیوی کے کردار سے بڑھ کر نہیں، بلکہ اس پر عائد کی گئی ذمہ داری کا وہ جوابدہ ہے۔ دونوں فرائض ایک دوسرے کے لیے قابلِ قبول ہیںاور خاندان کو بااحسن طریقے سے چلانے کے لیے نہایت ہی ضروری ہیں تاکہ معاشرہ صحیح طور پر کام کرسکے اور اس میں سکون ہو۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
”اور اس چیز کی آرزو نہ کرو جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ مردوں کو ان کے کاموں کا اجر ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کے کاموں کا اجر ہے جو انہوں نے کئے “(النسائ:32)
برابری کا مغربی تصور انسانی اختراع ہے جو فطرت میں بگاڑ پیدا کرتاہے اور اسلام میں ایسے تصور کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اسلام میں تمام احکامات خالقِ باری تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہیں جو مرد اور عورت دونوں کے لیے منصفانہ ہیں۔ مزید یہ کہ اسلام بنی نوع انسان کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ معاشرے میں اپنی مرضی یا دلی پسند اور ناپسند کے مطابق اپنے فرائض منصبی کا تعین کرے، بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے عائد کردہ فرائض کو من وعن قبول کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”اللہ اور اس کا رسول ا جب کوئی فیصلہ کریں تو کسی مومن مرد یا عورت کے لیے اس فیصلے میں کوئی اختیار نہیں (یاد رکھو) اللہ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا“ (الاحزاب: 36)

اسلام میں ایک عورت کے لیے جائز پیشے:

اسلام میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ ایک عورت کوئی پیشہ اختیار کرسکتی ہے اگر وہ ماں اور بیوی جیسے اپنے بنیادی فرائض کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتی۔ تاہم اسلام خواتین کو چند مخصوص پیشے اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتاہے جس کی تفصیل یوں ہے:

1) حکمرانی کا عہدہ جیسا کہ خلیفہ، والی یا عامل: یہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اسلامی معاشرے میں عورت مرد سے کمتر ہے، بلکہ اس کی ممانت کے خاص دلائل موجود ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے فرمایا ”جو لوگ ایک عورت کو حکمرانی کے عہدے پر فائز کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پاسکتے“ مزید یہ کہ اسلام میں حکومت کرنا کوئی عزت یا اعلیٰ مرتبہ کی چیز نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ ذمہ داری، لوگوں کے امور کی دیکھ بھال اور ایسا کام جس کا محاسبہ ہوتا ہے، کا معاملہ ہے۔

2) کوئی بھی ایسا کام جس میں عورت کی نسوانیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے: عورت ایسا کوئی پیشہ اختیار نہیں کرسکتی جس میں کام کی نوعیت اس کی نسوانیت پر مرکوز ہو جیسا کہ ماڈلنگ اورتشہیر کاکام وغیرہ۔ اسی طرح وہ ایسا کام بھی نہیں کرسکتی جس میں اسے نامحرموں کی موجودگی میں (ہاتھ اور چہرے کے علاوہ) اپنا ستر کھولنا پڑے یا اس کام میں اپنے نامحرموں کو اپنی خوبصورتی کی طرف مائل کرنا پڑے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اسلام نے عورت کو عزت سے نوازا ہے اور اس پر فرض ہے کہ وہ اس کی حفاظت کرے نا کہ اس کی نسوانیت کو ایک معاشی چیز سمجھا جائے۔

چنانچہ مسلمان عورت کو یہ تسلی ہونی چاہیے کہ وہ ان کے علاوہ کوئی بھی پیشہ اختیار کرسکتی ہے جو اسلامی احکامات پر پورا اترتا ہو اور جو اسلامی معاشرتی حدود کے اندر ہو۔ اور یہ بات بھی یقینی ہو کہ اس کام میں کسی نامحرم مرد کے ساتھ خلویٰ یعنی اکیلے مرد کے ساتھ تنہائی تو شامل نہیں تاکہ کوئی بھی اس کے کردار پر انگلی نہ اٹھا سکے اور نہ ہی کسی قسم کے شک کا سبب بن سکے۔ نیز یہ پیشہ مردوں کے ساتھ اختلاط کا باعث نہ ہو اور جتنا ممکن ہوسکے اس میں مردوں کے ساتھ قریبی تعلقات کی ضرورت درکار نہ ہو۔

چنانچہ ان پابندیوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک عورت ڈاکٹر بن سکتی ہے، انجئنیر بن سکتی ہے، کاروبار کرسکتی ہے یا سائنسدان بن سکتی ہے یا پھر استاد بن سکتی ہے اور یوں وہ اسلامی معاشرے کی اصلاح کے لیے بہت اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

حضور ا کے دور میں بہت سی مسلمان عورتیں کام کیا کرتی تھیں۔ خود حضور ا زوجہ محترمہ حضرت سودا ؓ جانوروں کی کھالوں کو رنگنے کا کام کرتی تھیں۔ ایک صحابیہ حضرت کلاؓ تجارت کیا کرتی تھیں، بہت سی ایسی روایات موجود ہیں کہ جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ حضور ا سے اپنے تجارتی معاملات سے متعلق سوال کیا کرتی تھیں تاکہ ان معاملات میں اسلام کا حکم معلوم ہوسکے۔ جابر بن عبداللہؓ کی چچی کاشت کاری کیا کرتی تھیں۔ اسی طرح بہت سی خواتین جنگ کے دوران زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں۔ اور حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں ایک عورت کو قاضی حسبہ بنا یا تھا۔

آخری بات:

[”کامیاب عورت“ کے مغربی تصور کے مطابق عورت کی حیثیت ایک معاشی چیز سے زیادہ کچھ نہیں۔ وہ اسی وقت اس معاشرے کے لیے اہم ہے جب وہ کچھ کما کر انہیں دے رہی ہے۔ استعمار کافر چاہتا کہ مسلمان عورتیں بھی اسی معیار کو اپنائیں اور اسلامی ممالک میں اس تصور کو پروان چڑھایا جائے۔ وہ تصور جو ان کے اپنے معاشرے میں بدبختی اور مسائل کے علاوہ کچھ پیدا نہیں کرسکا اور جس نے عورت کو اس کی عزت کی حفاظت کرنے کی بجائے اسے ایک کاروباری اشتہار بنا کر رکھ دیا ہے۔

اسلام عورت کو اس گھٹیا طریقے سے نہیں پرکھتا۔ بلکہ اسلام میں وہ عورت ”کامیاب عورت“ کہلاتی ہے جو اللہ کے احکامات کو پورا کررہی ہوتی ہے۔ وہ خود کو مرد سے کمتر نہیں سمجھتی بلکہ وہ معاشرے میں اپنے کردار اور فرائض کو اختیار کرنے کی متمنی ہوتی ہے۔ وہ کام تو کرسکتی ہے لیکن اسے وہ اپنی کامیابی سے نہیں جوڑتی اور نہ ہی اپنے رتبے کو اپنے کیرئیر سے ماپتی ہے۔ وہ اللہ کے احکامات کو بجا لانے کو اپنے لیے فخر کا باعث سمجھتی ہے۔ ایسی عورت ہی ”کامیاب عورت“ ہے۔
عورت کو طرح طرح سے تنگ کیا جاتا ہے مثلاً ایک پرائیویٹ Survey کے مطابق گورنمنٹ ہسپتالوں کی نرسوں سے لئے گئے انٹرویو میں 58فیصد نرسوں نے کہا کہ ساتھ کام کرنے والے ملازمین اور مریضوں کے ساتھ ان کے رشتہ دار تنگ کرتے ہیں۔ یہ خواتین باعزت طور پر ملازمت کرنا چاہتی ہیں۔ اسی طرح تشدد کے بارے میں سوال کرنے پر 93فیصد خواتین نے بتایا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے مرد یا ان کے Boss ان کو پریشان کرتے ہیں۔ ان کو ذاتی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرتے ہیں Demand پوری نہ کرنے پر نوکری ختم کردینے کی دھمکی دیتے ہیں۔


Saturday, December 4, 2010

بھارت اور اسرائیل کے مابین خاموش سفارت کاری کے اہداف


تاریخ گواہ ہے کہ 9/11 کے واقعات کے فوراً بعد بھارت اور اسرائیل دونوں نے صدر بش کی چھیڑی ہوئی ''دہشت گردی کے خلاف جنگ میں'' بلاتوقف شمولیت اختیار کرلی تھی اور اب ان دونوں نے اپنی جملہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور چین کے خلاف خفیہ سفارت کاروں کی مہم کا آغاز بھی کر دیا ہے اور آئے دن اس مہم میں اب شدت آتی جارہی ہے۔

کچھ عرصہ قبل بھارتی ہفت روزہ ''آئوٹ لک'' کے 18 فروری 2008 ء کے شمارے میں بھارت میں تعینات اسرائیلی سفیر کا ایک انٹرویو چھپا ہے اور اس انٹرویو میں اسرائیلی سفیر نے اپنی خاموش سفارت کاری کی جانب چند معنی خیز اشارے کئے ہیں انہوں نے بھارت ' اسرائیل دفاعی معاہدے کو ایک معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس معاہدے کی رو سے دفاع کے شعبے میں چند ایسے حساس نوعیت کے راز موجود ہیں جنہیں عمداً پردہ اخفا میں رکھا گیا ہے اور یہ معاملات آگے چل کر بھی راز ہی رہیں گے۔

ان تعلقات کے حوالے سے جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بھارت ' اسرائیل گٹھ جوڑ 2003 ء تک خفیہ ہی تھا اور پھر جب اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے بھارت کا دورہ کیا تھا تو انہوں نے باضابطہ طور پر دونوں ملکوں کے باہمی مراسم کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے بھارت کے روزنامے ''دی ٹریبون'' نے 10 ستمبر2003 ء کو لکھا ہے کہ بھارت اور اسرائیل دونوں ملک مفاہمت کی منازل تیزی سے طے کررہے ہیں۔


اس طرح تزویراتی شعبے میں مزید تعاون کی راہیں ہموار کرنے پر بھی اب دونوں ملکوں کے مابین اتفاق رائے طے پاگیا ہے اور اسرائیل اس بات پر بھی رضامند ہے کہ دفاعی شعبے پر اٹھنے والے اخراجات کو اسرائیل بھی پوری طرح شیئر کرے گا اس حوالے سے ''انڈین ایکسپریس'' نے یہ راز فاش کیا ہے کہ اینٹی میزائل سسٹم سے لے کر ہائی ٹکی راڈار تک اور سکائی ڈرونز سے لے کر نائٹ ویژن ایکوپمنٹ تک ان تمام تحقیقی سرگرمیوں میں بھارت ،اسرائیلی
 دفاعی تعاون نے ترقی کی متعدد منازل طے کرلی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے مابین تعلقات اندرا گاندھی کے دور میں ہی استوار ہوگئے تھے اور انہوں نے اس وقت کے ''را'' کے سربراہ رامیش ناتھ کو ہدایت کی تھی کہ وہ "موساد" کے ساتھ خفیہ مراسم کو مزید فعال بنائیں تاکہ خفیہ رابطہ کے ذریعے پاکستان ' چین اور شمالی کوریا کی دفاعی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔  آگے چل کر شهيد جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں ''را''او ر ''موساد'' کے مشترکہ منصوبوں کا راز فاش ہوگیا تھا جن کی رو سے پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ بھی شامل تھا۔

اس ایک واقعے سے یہ حقیقت ابھر کر سامنے آئی ہے کہ بھارت ' اسرائیل دفاعی معاہدے کی حدود صرف جنگی سازوسامان کی خریدو فروخت تک محدود نہ تھیں بلکہ ان کا دائرہ کار بہت وسیع تھا اور ایشیا اور مڈل ایسٹ کے ممالک میں تزویراتی سطح پر خفیہ اور سرعام سٹرٹیجی کو فروغ دے کر ان ممالک کو نشانے پر رکھنا مقصود تھا۔ چین کی ابھرتی ہوئی اقتصادی اور دفاعی طاقت کے آگے بند باندھنا بھی ''را''''موساد'' کی خفیہ سرگرمیوں میں خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ جولائی1997 ء میں اسرائیلی وزیر اعظم نے بھی بھارت ' اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تزویراتی عوامل پر اپنے گہرے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

بھارت اور اسرائیل کی خفیہ ڈپلومیسی کی اور بھی کئی جہتیں ہیں  جن مي
ں چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت ' دونوں ملکوں کے لئے خطرے کی علامت ہے۔ مزید برآں چین کے جس انداز سے تیسری دنیا کے ممالک کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی سطح پر مراسم استوار ہو رہے ہیں اسے بھی اسرائیل اور بھارت اپنے لئے خطرے کی علامت قرار دیتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کا وجود بھی انہیں کاٹنے کی طرح کھٹکتا ہے اور ان کی چال یہ ہے کہ اگر پاکستان کو اس کی ایٹمی صلاحیت سے محروم کر دیا جائے تو پھر پاکستان اور چین دونوں کی ابھرتی ہوئی قوت کے آگے بندباندھا جاسکتا ہے اس منصوبہ بندی میں اسرائیل اور بھارت کو امریکہ کی آشیر واد بھی حاصل ہے۔

امریکہ اور بھارت کے مابین ''سویلین نیو کلیئراکارڈ'' جو طے پایا ہے اس کے پس پردہ مقاصد میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بھارت کی عسکری قوت کو اتنا مضبوط بنا دیا جائے کہ وہ چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیت کا مقابلہ کرسکے جہاں تک بھارت کی فوجی سرگرمیوں اور تیاریوں کا تعلق ہے اس حوالے سے یہ خبر قابل توجہ ہے کہ دہلی نے شمالی لداخ میں اپنے ہوائی اڈے کا افتتاح کیا ہے۔ یہ ائیر بیس قراقرم کے سٹرٹیجک درے کو لنک کرتا ہے اور چین کی سرحد اکسائے چن ایریا سے صرف آٹھ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ علاوہ ازیں بھارت نے چین ' بھارت سرحد کے آس پاس 10 نئے ہیلی پیڈ بھی تعمیر کیے ہیں۔ ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ چین سے نمٹنے کے سلسلے میں بھارت کس قدر مستعد ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ مئی 1998 ء میں بھارت نے ایٹمی تجربہ کیا تھا تو اس وقت کے ڈیفنس منسٹر جارج فرنانڈس نے سرعام اعلان کیا تھا کہ چین ' بھارت کے لئے خطرہ نمبر ایک ہے اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے بھارت نے مئی2007 ء میں اگنی iii کا کامیاب تجربہ کرلیا تھا اور اس میزائیل کی صلاحیت اتنی بتائی جاتی ہے کہ یہ چین کے تما م شہروں کو اپنے نشانے پر رکھ سکتا ہے ۔ ادھر پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بھی بھارت اور اسرائیل دونوں کے لئے حد درجہ تشویش کا باعث ہے۔ان تمام شواهد اور دلائل كو مد نظرركهكر قارئ اصل حقيقت كا خود ادراك كرسكتا هے كه كون كيا چاه رها هے






رائد الاختبار لنجاح الأبرار






        رائد الاختبار لنجاح الأبرار
                   (الدليل الكامل للاختبار التنافسي)

FOR 
NET,SET ,Ph.D, M. Phil                                                                                                                                           


          اعداد


   معراج الدين الندوي










*ضع دائرة حول رمز الإجابة الصحيحة فيما يلي:

نحو وصرف وإملاء
1) قال تعالى :"كلا إن الإنسان ليطغى".اللام المتصلة بالفعل ( ليطغى ) في هذه الآية الكريمة
   هي:
أ-لام التوكيد                                                    ب-لام الجر
ج-لام التعليل                                                  د-لام الأمر

2) تأنّ ولا تعجل بلومك صاحبا                 لعل له عذراً وأنت تلوم
   ( صاحبا ) في هذا البيت مفعول به منصوب:
أ-للفعل تأنّ                                                    ب-للفعل تعجل
ج-للمصدر ( لومك )                                           د-بفعل محذوف

3) قال تعالى : "وان تولوا فإنما عليك البلاغ"
    ( ما ) في هذه الآية الكريمة :
أ-موصولة                                                      ب-نافية
ج-كافة عن العمل                                              د-استفهامية

4) ( كم كتاباً عندك؟ ), كم الاستفهامية في هذه الجملة تعرب :
أ-مبتدأ                                                         ب-مفعولاً به
ج-ظرف مكان                                                 د-مفعولاً فيه

5) الجملة التي فيها مصدر مؤول من الجمل التالية, هي :
أ-إن تدرس تنجح                                               ب-وأن تدرسوا خير لكم
ج-ادرس بجد للنجاح                                           د-دراستك سبب نجاحك

6) في قوله تعالى : " ما هذا بشرا " , ( ما ) هي:
أ-العاملة عمل ليس                                            ب-النافية
ج-الموصولة                                                   د-الشرطية
7) الجملة التي فيها ( مَنْ ) شرطية من الجمل التالية, هي:
أ-من يفعل خيراً يجد خيراً                                       ب-من فعل هذا
ج-أحب من يفعل الخير                                                د-احترمه كائنا من كان

8) ( أنّى ) التي تفيد معنى الشرط وجازمة من الجمل التالية , هي :
أ-أنى تسافر أسافر                                              ب-زرني أنىّ شئت
ج-أنى لك هذا الكتاب                                  د-أنى تنجح دون استعداد

9) الجملة التي فيها (الواو) بمعنى العطف في الجمل التالية , هي :
أ-استيقظ الرجل و أذان الفجر                                   ب-والله لأدرسن بجدّ
ج-غادر الجامعة وهو مسرور                                   د-نجح زيد وإخوته

10) قال قيس بن الملوح  :
     أمضروبة ليلى على أن أزورها                     ومتخذ ذنباً لها أن ترانيا
     تعرب ( ليلى ) في هذا البيت :
أ-نائب فاعل لاسم مفعول                                       ب-خبر المبتدأ
ج-مضافاً إليه                                                  د-فاعلاً لفعل محذوف

11) اصل كلمة " ارتاب " هو :
أ-ارتوبَ                                                        ب-ارتياب
ج-ارتيب                                                       د-ارتببَ

12) كلمة " محيط " من الناحية الصرفية في قوله تعالى " والله محيط بالكافرين " هي :
أ-اسم فاعل                                                     ب-اسم مفعول
ج-صيغة مبالغة                                                        د-مصدر

13) نكشف في المعجم عن كلمة " يتركم " من قوله تعالى " ولن يتركم أعمالكم " تحت مادة:
أ-ترا                                                            ب-وتر
ج-يتر                                                         د-تار

14) " عمّ __________ عن النبأ العظيم " الكتابة الصحيحة للكلمة التي تملأ الفراغ في
      الآية الكريمة :
أ-يتساءلون                                                     ب-يتسآلون
ج-يتسائلون                                                    د-يتسئلون

15) الكلمات الآتية صحيحة إملائياً عدا واحدة هي :
أ-السفلى                                                       ب-العليا
ج-بَطي ء                                                      د-دفيء

العروض
16) قال عبد المنعم الرفاعي في رثاء طه حسين :
      ضوء عينيك أم هما نجمتان               كلهم لا يرى وأنت تراني
     هذا البيت جاء على وزن البحر :
أ-البسيط                                                       ب-الطويل
ج-الخفيف                                                     د-الرّمل

17) عينان كلتاهما في _____ ساهرة         وتحت ثوب الدجى بالصمت تلتحف
      الكلمة المناسبة لإكمال وزن هذا البيت من الكلمات التالية , هي :
أ-النهار                                                                ب-الظلام
ج-التفكير                                                      د-الليل

18) واضع علم العروض, هو :
أ-أبو الأسود الدؤلي                                             ب-الخليل بن أحمد
ج-سيبويه                                                      د-أبو علي الفارسي

19) اختلاف حركة القافية في أحد أبيات القصيدة عن حركة الروي المستمر فيها , يسمى:
أ-الإكفاء                                                       ب-التضمين
ج-الإسناد                                                      د-الإقواء

20) ليس الجمال بمئزر                فاعلم وان ردّيت بُردا
      في التفعيلة الأخيرة من هذا البيت زاد مقطع طويل (-) وهذا يسمى في علم العروض
أ-الترفيل                                                       ب-الطيّ
ج-العصب                                                     د-التذييل

21) أول كتاب وصل إلينا في النقد هو :
أ-الوساطة                                                      ب-الشعر و الشعراء
ج-البيان و التبين                                              د-طبقات فحول الشعراء

22) " إذا تعاجم شيء من القرآن فانظروا في الشعر, فإن الشعر عربي" مقولة ل :
أ-عبد الله بن عمر                                              ب-عمر بن الخطاب
ج-عبد الله بن عمرو                                           د-عبد الله بن عباس

23) يقول الجاحظ : " ... فإنما الشعر صناعة وضرب من النسيج وجنس من التصوير " .
     الفكرة النقدية التي يمثلها هذا النص هي :
أ-بحور الشعر                                                  ب-الصناعة البيانية
ج-رواية الشعر                                                 د-الأغراض الشعرية

24) صاحب مقولة : " الشعر نكد بابه الشر , فإذا دخله الخير لان " هو:
أ-قدامة بن جعفر                                               ب-القاضي الجرجاني
ج-العلوي اليمني                                               د-(الأصمعي)

25) كتاب الموازنة كان يوازن بين :
أ-المتنبي والبحتري                                             ب-المتنبي وخصومه
ج-(أبي تمام و البحتري)                                                د-المتنبي و أبي تمام



26) ينسب الأخطل قوله : " الفرزدق ينحت من الصخر, وجرير يغرف من بحر " هذا القول
     يرتبط بقضية نقدية هي:
أ-النقد الضمني                                                 ب-الإجازة
ج-الطبع والصنعة                                              د-الصدق

27) الناقد الحديث الذي رأى أن قضية (السرقات) جَمّدت كثيراً من جهود النقاد القدماء هو:
أ-شوقي ضيف                                                         ب-مصطفى وهبي التل
ج-إحسان عباس                                               د-(طه حسين)

28) إحدى الجمل الآتية غير صحيحة :
أ-كعب بن زهير بن أبي سلمى وأخوه بجير من شعراء مدرسة عبيد الشعر.
ب-من المؤثرات الخاصة في الأحكام النقدية عند ابن سلام ارتباط الشعر بالحرب.
ج-جعل ابن سلام الشعراء في طبقاته يتوزعون على (114)طبقة في كل طبقة أربعة شعراء.
د-من الأفكار النقدية التي عالجها حازم القرطاجني فكرة التخيل والمحاكاة.

29) " احتياج البيت للبيت الذي يليه ليكمل معناه " هذا تعريف مصطلح :
أ-التضمين                                                     ب-الخنذيذ
ج-الإجازة                                                      د-التحبير

30) إحدى الجمل الآتية صحيحة :
أ-مؤلف كتاب " الحيوان " هو عمرو بن بحر.
ب-من مجالات السرقة عند الجاحظ المعنى المألوف .
ج-تأثر ابن سلام بالثقافة اليونانية وأتضح ذلك في كتابه الطبقات.
د-اتفق الجاحظ مع الشعوبيين في أن العرب يتصفون بالعقل والفصاحة والعلم.

31) يسمي عبد القاهر النسق الذي تأخذه الكلمات في العبارة : وهو عنده مصدر الجمال
     الذي يضفي على المفردات رونقاً وحسناً وبهاءً :
أ-النحو                                                         ب-التنقيح
ج-التشبيه المصيب                                            د-النظم

32) تأثر نقد عبد العزيز الجرجاني في الوساطة بثقافته وعلمه ب :
أ-الصيرفة                                                      ب-الزجاج
ج-القضاء                                                      د-الولاية

33) تعريف الشعر عند قدامة بن جعفر ذكر العناصر الرئيسة المكونة له وهي:
أ-اللفظ والوزن والتصوير                                        ب-الوزن والقافية والتصوير
ج-اللفظ والمعنى والوزن والقافية                         د-المعنى والقافية والنظم

34) من نقاد القرن الثالث للهجرة :
أ-عبد القاهر الجرجاني                                          ب-الآمدي
ج-ابن خلدون                                                  د-الجاحظ

35) إحدى الجمل الآتية صحيحة :
أ-ينزع التفكير النقدي عند القاضي الجرجاني إلى الرومانسية في النظر إلى الشعر.
ب-يطلق عبد القاهر الجرجاني على توخي معنى النحو في معاني الكلمة مصطلح التخييل.
ج-الحطيئة من شعراء مدرسة عبيد الشعر المشهورين في العصر الجاهلي.
د-قدم الآمدي في موازنته كل البراهين على انتصاره لطريقة الوليد بن عبيد وازوراره عن
   شعر حبيب بن أوس.

النقد الأدبي الحديث
36) كانت مجلة شعر تتميز بتوجهها النقدي :
أ-الاجتماعي                                                   ب-التاريخي
ج-الحداثي                                                     د-الرومانسي

37) الواقعية الاشتراكية مصطلح أطلقه :
أ-سانت بيف                                                   ب-مكسيم جوركي
ج-يونج                                                                د-شتراوس


38) التلقي منهج نقدي يقوم على :
أ-العناية بنفسية المبدع                                    ب-التوقف عند لغة النص وأثرها
ج-تفكيك بنى النص وإعادة تركيبها                        د-الاهتمام باستجابة القارىء

39) سوسيولوجيا الأدب تعني :
أ-المنهج التأثيري                                               ب-المنهج الواقعي
ج-المنهج التاريخي                                             د-المنهج النفسي

40) مدرسة الديوان تتكون من :
أ-العقاد والمازني                                                ب-العقاد وشكري
ج-العقاد وطه حسين                                           د-العقاد والمازني وشكري

41) حسين مروّة ناقد :
أ-رومانسي                                                     ب-كلاسيكي
ج-بنيوي                                                       د-اجتماعي

42) بدايات النقد العربي الحديث تجلت على يد:
أ-حسين المرصفي                                              ب-حسين مروّة
ج-العقاد                                                       د-الرافعي

43) النرجسية مصطلح نقدي يعني :
أ-الخوف                                                       ب-الاضطراب
ج-حب الذات                                                  د-حب الابن لأمه

44) من آراء " يونج " النقدية أن الأدب يعبر عن :
أ-النرجسية                                                     ب-الغريزة
ج-التسامي                                                     د-النماذج العليا



45) عبد السلام المسدي :
أ-ناقد اجتماعي                                                 ب-ناقد اسلوبي
ج-شاعر مغربي                                                د-روائي أردني
46) ينسب البيت التالي ل :
     أرى العيش كنزا ًناقصاً كل ليلة             وما تنقص الأيام والدهر ينفد
أ-زهير بن أبي سلمى                                           ب-لبيد بن ربيعة
ج-طرفة بن العبد                                               د-المتلمس

47) قال الشاعر : فلولا ثلاث هن من عيشة الفتى      وجدك لم أحفل متى قام عوّدي
     المقصود بكلمة " ثلاث " :
أ-الأطلال والصيد والصحراء                                    ب-المرأة والخمر والنجدة
ج-الموت والحياة والآخرة                                        د-النصر والهزيمة والغزل

48) تقل المقدمات الغزلية في :
أ-شعر الرثاء                                                   ب-شعر المدح
ج-شعر الوصف                                               د-شعر الهجاء

49) يقصد ب " سعد " في البيت التالي :
      فأبنا وقد آمت نساء كثيرة                 ونسوة سعد ليس منهن أيم
أ-سعد بن معاذ                                                 ب-سعد بن عبادة
ج-سعد بن أبي وقاص                                          د-سعد بن عمرو بن مالك

50) تعزى قلة الشعر في فتوح مصر والشام في صدر الإسلام إلى :
أ-أن معظم الفاتحين من القبائل الشمالية.
ب-أن معظم الفاتحين من القبائل اليمنية.
ج- أن معظم الفاتحين من أتباع الفرق الدينية.
د-تخلف الشعراء عن المشاركة في الفتوح.



51) تنسب فحولة الشعر في العصر الأموي إلى الشعراء الذين برعوا في:
أ-الصيد والغزل                                                 ب-المدح والهجاء
ج-الرثاء والوصف                                              د-الوعظ والحكمة

52) وجدت ظاهرة الانعكاس في الغزل الحسي عند:
أ- الشاعر الأحوص                                 ب-الشاعر الحارث بن خالد المخزومي
ج-عمر بن أبي ربيعة                               د-عبد الله بن قيس الرقيات.

53) قائل البيت التالي :
      فقد كلم الله النبي محمداً          على الموضع الأعلى الرفيع المسوّم
أ-حسان بن ثابت                                               ب-عبد الله بن رواحة
ج-كعب بن مالك                                               د-كعب بن زهير

54) يهتم الكميت بن زيد في دفاعه عن حق آل البيت في الخلافة :
أ-بالحجج والأدلة                                                ب-بالأسلوب القصصي
ج-بالتاريخ القبلي                                               د-بالنقل عن الآخرين

55) زهد أبي العتاهية بوجه عام :
أ-زهد إسلامي خالص                                   ب-زهد متأثر ببعض الأفكار الهندية
ج-زهد متأثر ببعض الأفكار الفارسية                    د-يغلب عليه النفاق

56) في أسلوب الجاحظ في صياغة الجمل والتراكيب:
أ-صنعة فنية خفية                                      ب-صنعة فنية واضحة
ج-عدم احتفال بالصيغة اللفظية                         د-يبدو نثره كالشعر

57) أسلوب أبي تمام في نظم الشعر :
أ-يعتني بالمعاني الجديدة واستخراجها                 ب-يعتني بأساليب الصياغة اللفظية
ج-يعتني بأساليب الصياغة اللفظية وموسيقاها       د-يجمع بين العناية بالمعاني والتراكيب


58) من أبرز الموضوعات التي طرقها الشعر الاندلسي شعر الموشحات, وهو أندلسي
      النشأة, منشىء هذا اللون من الشعر هو :
أ-ابن سناء الملك                                               ب-ابن هانىء الاندلسي
ج-لسان الدين بن الخطيب                                      د-ابن معافى القبري

59) تعد قصة حي بن يقظان للأديب والفيلسوف الاندلسي ابن طفيل من أكبر القصص
      الفكرية في العصور الوسطي في نطاق الآداب العالمية. فمن نظائر هذه القصة بعد
      ابن طفيل :
أ-قصة طرزان للكاتب الأمريكي أدغار
ب- قصة الولد المسيّب ل هوميروس
ج-رواية بجماليون ل توفيق الحكيم
د-أسطورة الصنم والملك وابنته ل ليون غوتيه

60) نبغ في العصور المتتابعة شعراء كثيرون من اشهرهم :
أ-تميم بن مقبل, كعب بن زهير, أبو ذؤيب الهذلي
ب- ديك الجن الحمصي, علي بن الجهم, بشار بن برد
ج-ابن منير الطرابلسي, ابن القيسراني, أسامة بن منقذ.
د- أبو الطيب المتنبي, أبو فراس الحمداني, العباس بن الاحنف

61) رائد المسرح الشعري في الأدب العربي الحديث هو :
أ-أحمد شوقي                                                   ب-عزيز أباظة
ج-توفيق الحكيم                                                        د-سعد الله ونوس

62) كتاب " الديوان في الأدب والنقد " من تأليف :
أ-العقاد وشكري                                         ب-المازني والعقاد
ج-عبد الرحمن شكري                                          د-العقاد

63) ظهر نشاط الأدب المهجري من خلال جماعتين هما:
أ-الرابطة القلمية وجماعة الديوان                       ب-الرابطة القلمية والعصبة الأندلسية
ج-جماعتا الديوان وأبولو                               د-أبولو والعصبة الأندلسية
64) باعث النهضة في الشعر العربي الحديث, ورائد مدرسة الإحياء هو:
أ-حافظ إبراهيم                                                  ب-أحمد شوقي
ج-خليل مطران                                                 د-محمود سامي البارودي

65) "عبث الأقدار" و "رادوبيس" و "كفاح طيبة" ثلاث روايات تاريخية ل ...... :
أ-جرجي زيدان                                                  ب-نجيب محفوظ
ج-توفيق الحكيم                                                        د-محمود تيمور

66) تمثل رواية ________ أول محاولة كاملة في كتابة القصة القصيرة بالمعنى الحديث
      لها في رأي النقاد.
أ-عودة الروح                                                   ب-زينب
ج-قنديل أم هاشم                                               د-حديث عيسى بن هشام

67) ولد المسرح العربي في لبنان على يد :
أ-مارون النقاش                                                ب-يعقوب صنوع
ج-أبو خليل القباني                                             د-سعد الله ونوس

68) الفن النثري الذي يجسد رؤية سرديّة فنيّة متكاملة هو:
أ-القصة القصيرة                                                ب-الرواية
ج-المقالة                                                       د-المسرحية

69) ________ و ________ من التقنيات السردية التي هجرها كتاب الرواية :
أ-السّرد بضمير المتكلم والقطع المكاني                         ب-الاسترجاع والتداعي
ج-المذكرات والسّرد بضمير الغائب                             د-تيار الوعي والحلم

70) شخصية مختار القرية ورجل الإقطاع الظالم ومعظم رجال الدين في الرواية العربية هي
     شخصيات
أ-سطحية                                                       ب-مسطحة
ج-نامية                                                        د-رئيسة

71) رائد المدرسة الشعرية الرومانسية في الأدب العربي هو:
أ-خليل مطران                                                  ب-احمد زكي أبو شادي
ج-جبران خليل جبران                                           د-عباس محمود العقاد

72) " الغربال " و " النبي " هما على الترتيب ل :
أ-إيليا أبي ماضي و جبران                                     ب-ميخائيل نعيمة وجبران
ج-جبران خليل جبران                                           د-جبران ونسيب عريضة

73) رسولا حركة الشعر الحداثي في رأي النقاد هما :
أ-نازك الملائكة وبدر شاكر السياب                             ب-عرار ومحمود درويش
ج-البياتي والسياب                                              د-البياتي ونازك الملائكة

74) العنصر الروائي الذي يكشف عن خصائص وطبيعتها هو:
أ-الوصف                                                      ب-لغة الرواية
ج-الحبكة                                                      د-الحوار

75) من ملامح التجديد في القصيدة عند خليل مطران :
أ-التشخيص ومزج النفس بالطبيعة
ب-انتزاع الصور من التراث القديم
ج-أصالة اللغة ودقتها
د-التزام الوزن ووحدة القافية

76) إتباع نظام السّطر الشعري, وعدم التقيّد بالقافية الواحدة, وتقسيم القصيدة إلى مقاطع
      تمثل دفقات شعوريّة تلتزم الوزن,من سمات :
أ-الشعر المرسل                                                ب-شعر التفعيلة
ج-الشعر المنثور                                               د-الشعر العمودي

77) أولى مسرحيات توفيق الحكيم من نمط مسرح اللامعقول _____________ :
أ-شهرزاد                                                       ب-يا طالع الشجرة
ج-أمينوسا                                                     د-أهل الكهف
78) النقطة الفاصلة في القصة ولحظة التأزم التي تتدرج الحوادث قبلها صعداً ثم تبدأ بعدها
      بالتصفية والكشف وصولاً إلى الخاتمة هي ____________
أ-الحبكة                                                       ب-العقدة
ج-الزمكانية                                                    د-المغزى

79) البعد الذي ترسم من خلاله الشخصية الروائية فيحدّد مستواها وحظها من التعليم
      والثقافة هو:
أ-البعد المادي                                                  ب-البعد الاجتماعي
ج-البعد الأيديولوجي                                            د-البعد النفسي

80) تتصف القصة القصيرة ب ___________
أ-التركيز والتكثيف
ب-امتداد الزمان ورحابة المكان
ج-تصويرها للشخصية من خلال أبعاد متعددة
د-الاسترسال في سرد الجزئيات والشخصيات ووصفها

البلاغة العربية
81) لعبد القاهر الجرجاني كتابان مهمان في البلاغة هما :
أ-"نهاية الإيجاز" و "دراية الإعجاز"                      ب-"معاني القرآن" و"أساس البلاغة"
ج-"دلائل الإعجاز" و "أسرار البلاغة"                    د-"سر الفصاحة" و "إعجاز القرآن"

82) أوّل من جعل البلاغة علماً كما يقال هو :
أ-الجاحظ                                                       ب-السكاكي
ج-القزويني                                                     د-أبو عبيدة

83) "ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة"-الأمر هنا بمعنى :
أ-التوكيد                                                       ب-التسوية
ج-الامتنان                                                     د-الدعاء

84) أسرب القطا هل من يعير جناحه           لعلي إلى من قد هويت أطير
     الهمزة في "أسرب القطا" ل:
أ-النداء                                                         ب-الاستفهام
ج-التقرير                                                      د-التمني

85) "لله ما في السموات والأرض"
      تقديم المسند "لله" على المسند إليه "مافي السموات" أفاد معنى :
أ-القصر                                                       ب-الفصل
ج-الوصل                                                      د-التقوية

86) "عليكم أنفسكم لا يضرّكم من ضّل إذا أهتديتم" – "عليكم أنفسكم" من قبيل :
أ-الخبر الطلبي                                                 ب-الإنشاء غير الطلبي
ج-الإنشاء الطلبي                                              د-الخبر الابتدائي

87) وإذا المنية أنشبت أظفارها                 ألفيت كل تميمة لا تنفع
      في البيت استعارة :
أ-تصريحية                                                     ب-تمثيلية
ج-مكنية                                                       د-لاشيء مما ذكر

88) "أيجب أحدكم أن يأكل لحم أخيه ميتاً فكرهتموه " – فيما تحته خط :
أ-استعارة                                                       ب-كناية
ج-تشبيه                                                       د-تورية

89) "وينزل لكم من السماء رزقا" فيما تحته خط في الآية مجاز مرسل علاقته:
أ-المسببية                                                      ب-السببية
ج-الجزئية                                                      د-المحلية

90) "أنا أفصح العرب بيد أني من قريش" في هذا الحديث لون بديعي هو:
أ-ردّ الأعجاز على الصدور                                     ب-تأكيد الذم بما يشبه المدح
ج-تأكيد المدح بما يشبه الذم                                    د-المقابلة والطباق
91) المعاجم التي تنتمي إلى منهج "التقليبات الصوتية" , هي :
أ-معجم العين, معجم الصحاح, معجم التهذيب, معجم لسان العرب
ب- معجم العين, معجم البارع, معجم التهذيب, معجم المحكم
ج-معجم اللسان , معجم مختصر العين , معجم الصحاح,معجم القاموس المحيط
د-معجم البارع , معجم العين , معجم التهذيب, مختصر العين , المحكم

92) المنهج الألفبائي المرتبط بالأبنية يعني أنه:
أ-جعل المواد على الترتيب الألفبائي,وصنف الكلمات في كل مادّة على تصنيف الخليل
ب-صنّف المواد حسب تقليبات الخليل وصنّف الكلمات حسب القافية.
ج-صنّف الحروف والكلمات حسب تقليبات الخليل.
د-صنّف الحروف والكلمات حسب الترتيب الألفبائي.

93) من الأعمال المعجميّة التي سبقت معجم العين :
أ-ما نسب إلى عمرو الشيباني ( كتاب الجيم , كتاب الخيل , كتاب الإبل )
ب-كتاب ( الجيم) المنسوب إلى أبي زيد الأنصاري.
ج-كتاب الجيم , وكتاب الخيل المنسوبان إلى الأصمعي.
د-كتاب الجيم,وكتاب المطر,وكتاب خلق الإنسان المنسوبة إلى أبي عبيدة.

94) تضمنّت الكتب الآتية : ( كتاب سيبوية , كتاب المقتضب للمبرد , كتاب الأصول في
      النحو لابن السراج ) الموضوعات الآتية
أ-الأصوات , وتضمنت موضوعات نحوية وصرفية ودلالية.
ب-الصرف, وتضمنت موضوعات صوتية وصرفية ونحوية ودلالية
ج-النحو وتضمنت دراسة موضوعات صرفية صوتية ودلالية.
د-النحو والصرف ولم تهتم بالموضوعات الصوتية والدلالية.

95) تضمنت الكتب الآتية :(فقه اللغة لابن فارس, المزهر السيوطي, الخصائص لابن جنّي)
      الموضوعات الآتية:
أ-نشأة اللغة , خصائص العربية , موضوعات لغوية متنوعة
ب-خصائص اللغات البشرية ,نشأة العربية , موضوعات لغوية
ج-تعريف اللغة العربية ,تعريف اللغة البشرية , خصائص العلوم
د-نشأة اللغات السامية, خصائص اللغات الشرقية , موضوعات لغوية
96) كتاب "سر صناعة الإعراب-لابن جنّي" ورسالة "أسباب حدوث الحروف لابن سينا"
      مختصان:
أ-بعلم الاعراب في العربية                              ب-بعلم أصوات اللغة العربية
ج-بعلم صناعة النحو وبناء حروف الكلمات             د-بكل العلوم العربية
97) من الموضوعات التي تضمنتها كتب التطوّر اللغوي عند العرب :
أ-القياس ,الاشتقاق, دراسة الوحدات الصغرى التمييزيّة عالمياً
ب- القياس ,الاشتقاق, النحت , معاني الكلمات عبر التاريخ.
ج-الاشتقاق , الأضداد , الترداف,والبلاغة في الكلمات,
د-التطوّر الصوتي , والصرفي, والنحوي, من خلال القياس و الاشتقاق والنحت, وعوامل التطور الأخرى.
98) بدأ الاهتمام بالدلالة عند العلماء الغربيين على النحو الآتي:
أ-عند "دي سور" من خلال العلاقة بين الدالّ والمدلول , ومن العلاقة السياقية بين الوحدات اللغويّة.
ب-عند مدرسة براغ من خلال وظائف الوحدات الدالة والوحدات الصغرى التمييزيّة "وظائف المقال".
ج-عند المقاميين "الاجتماعيين" من خلال دلالة المقام إضافة إلى "دلالة المقال"
د-اغفل السلوكيون "الدلالة الذهنيّة" واعتمدوا الدلالة الناتجة عن العلاقة بين المكونين المباشرين في الجملة المنطوقة
99) المثلث الدلالي يتكون من : ( دال/مدلول/مرجع(شيء):
أ-الدال هو الصورة المعنوية للوحدة اللغوية.
ب-المدلول هو الصورة الواقعية للوحدة اللغوية.
ج-العلاقة بين الدّال والشيء علاقة اعتباطية (وهي قائمة على معايير ثابتة)
د-لأنّ العلاقة بين الدال والشيء اعتباطيّة , فقد اختلفت الكلمات (الالفاظ التي تدلّ على شيء واحد) في اللغات.
100) علم اللغة المقارن يعني :
أ-ان تدرس اللغة في فصائلها ثم تجري المقارنة بينها بعد ذلك
ب-تكون المقارنة بين الفصائل أولاً ثم تكون دراسة اللغات بعد ذلك
ج-تكون الدراسة بمقارنة الثقافات من خلال دراسة اللغات
د-ان تدرس اللغة (صوتياً,صرفياً,نحوياً,دلالياً) من خلال مقارنتها بلغات الفصيلة (الأسرة) اللغوية الواحدة